🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

176. بَابُ مَا جَاءَ فِي الشُّؤْمِ
باب: بدشگونی کے بارے میں جو کچھ وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2296 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3473
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ الْكِنَانِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَكِيمٍ النُّمَيْرِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا شُؤْمَ، وَالْيُمْنُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّابَّةِ وَالدَّارِ" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی کچھ نہیں ہے، برکت عورت، سواری اور گھر میں ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3473]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 2824 (م 3)، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1993، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2296، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 785، والطبراني فى «الكبير» برقم: 3148، 796، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 8250»
یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے، جن میں صحيح مسلم (2226) کی روایت بھی شامل ہے۔

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2297 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3474
نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ" أَنَّهُ كَانَ لا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَسْتَرْضِعَ الرَّجُلُ لِوَلَدِهِ الْيَهُودِيَّةَ وَالنَّصْرَانِيَّةَ وَالْفَاجِرَةَ" .
سیدنا حسن رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: اگر کوئی شخص اپنے بچے کے لیے یہودیہ، نصرانیہ یا فاجرہ دودھ پلانے والی عورت رکھ لے تو کوئی حرج نہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3474]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 995، 2297»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2298 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3475
نا هُشَيْمٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْفَاجِرَةَ.
سیدنا ابراہیم رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے، مگر فاجرہ کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3475]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 996، 2298»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2299 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3476
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ كِنَانَةَ أُرَاهُ عُتْوَارِيًّا، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ لِي: مِنْ بَنِي فُلانٍ أَنْتَ؟ قُلْتُ: لا، وَلَكِنَّهُمْ أَرْضَعُونِي، فَقَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّبَنَ يُشَبَّهُ عَلَيْهِ" .
ایک شخص، جو کنانہ قبیلے سے تھا (اور راوی کو غالب گمان تھا کہ وہ عتواری ہے)، بیان کرتا ہے: میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا، تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: ’کیا تم فلاں قبیلے سے ہو؟‘ میں نے جواب دیا: ’نہیں، لیکن انہوں نے مجھے دودھ پلایا ہے۔‘ تو انہوں نے فرمایا: ’میں نے سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: دودھ (کی وجہ سے رشتہ داری) میں شبہ ہو سکتا ہے۔‘ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3476]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 997، 2299، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15780، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13953»
رجل من كنانة أراه عتواريًا – راوی مبہم ہے (مجہول)، البتہ سفیان نے اسے "أراه عتواريًا" کہا، یعنی "غالبًا عتواری ہے"۔

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں