سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
176. بَابُ مَا جَاءَ فِي الشُّؤْمِ
باب: بدشگونی کے بارے میں جو کچھ وارد ہوا ہے۔
ترقیم دار السلفیہ: 2296 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3473
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ الْكِنَانِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَكِيمٍ النُّمَيْرِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا شُؤْمَ، وَالْيُمْنُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّابَّةِ وَالدَّارِ" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدشگونی کچھ نہیں ہے، برکت عورت، سواری اور گھر میں ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3473]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 2824 (م 3)، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1993، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2296، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 785، والطبراني فى «الكبير» برقم: 3148، 796، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 8250»
یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے، جن میں صحيح مسلم (2226) کی روایت بھی شامل ہے۔
یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے، جن میں صحيح مسلم (2226) کی روایت بھی شامل ہے۔
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2297 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3474
نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ" أَنَّهُ كَانَ لا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَسْتَرْضِعَ الرَّجُلُ لِوَلَدِهِ الْيَهُودِيَّةَ وَالنَّصْرَانِيَّةَ وَالْفَاجِرَةَ" .
سیدنا حسن رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ”اگر کوئی شخص اپنے بچے کے لیے یہودیہ، نصرانیہ یا فاجرہ دودھ پلانے والی عورت رکھ لے تو کوئی حرج نہیں۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3474]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 995، 2297»
ترقیم دار السلفیہ: 2298 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3475
نا هُشَيْمٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْفَاجِرَةَ.
سیدنا ابراہیم رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے، مگر فاجرہ کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3475]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 996، 2298»
ترقیم دار السلفیہ: 2299 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3476
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ كِنَانَةَ أُرَاهُ عُتْوَارِيًّا، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ لِي: مِنْ بَنِي فُلانٍ أَنْتَ؟ قُلْتُ: لا، وَلَكِنَّهُمْ أَرْضَعُونِي، فَقَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّبَنَ يُشَبَّهُ عَلَيْهِ" .
ایک شخص، جو کنانہ قبیلے سے تھا (اور راوی کو غالب گمان تھا کہ وہ عتواری ہے)، بیان کرتا ہے: ”میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا، تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: ’کیا تم فلاں قبیلے سے ہو؟‘ میں نے جواب دیا: ’نہیں، لیکن انہوں نے مجھے دودھ پلایا ہے۔‘ تو انہوں نے فرمایا: ’میں نے سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: دودھ (کی وجہ سے رشتہ داری) میں شبہ ہو سکتا ہے۔‘“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3476]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 997، 2299، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15780، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13953»
رجل من كنانة أراه عتواريًا – راوی مبہم ہے (مجہول)، البتہ سفیان نے اسے "أراه عتواريًا" کہا، یعنی "غالبًا عتواری ہے"۔
رجل من كنانة أراه عتواريًا – راوی مبہم ہے (مجہول)، البتہ سفیان نے اسے "أراه عتواريًا" کہا، یعنی "غالبًا عتواری ہے"۔
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف