🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من لزوم هدي المصطفى بترك الانزعاج عما أبيح من هذه الدنيا له بإغضائه-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ دنیا کی مباح چیزوں میں حد سے زیادہ دل لگانے کے بجائے نبی ﷺ کے طریقہ ہدایت کو لازم پکڑے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، وَاسْمُهَا خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ بَذَّةُ الْهَيْئَةِ، فَسَأَلَتْهَا عَائِشَةُ: مَا شَأْنُكِ؟ فقَالَتْ: زَوْجِي يَقُومُ اللَّيْلَ، وَيَصُومُ النَّهَارَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ لَهُ ذَلِكَ فَلَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ، فَقَالَ: يَا عُثْمَانُ،" إِنَّ الرَّهْبَانِيَّةَ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْنَا، أَمَا لَكَ فِيَّ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ! فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَحْفَظُكُمْ لِحُدُودِهِ" صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تشریف لائیں ان کا نام خولہ بنت حکیم تھا۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئیں، تو ان کی حالت بری تھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے بتایا: میرے شوہر رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہیں اور دن کے وقت نفلی روزہ رکھ لیتے ہیں۔ (اسی دوران) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے آئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ آپ کے سامنے کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عثمان! ہم پر رہبانیت لازم قرار نہیں دی گئی ہے۔ کیا تمہارے لئے میرے طریقے میں بہترین نمونہ نہیں ہے؟ اللہ کی قسم! میں تم سب لوگوں سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور اس کی حدود کا تم سب سے زیادہ خیال رکھتا ہوں۔ ‘ [صحیح ابن حبان/المُقَدِّمَةُ/حدیث: 9]

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1239).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
ابن أبي السري- وهو محمد بن المتوكل بن عبد الرحمن بن حسان الهاشمي مولاهم أبو عبد الله العسقلاني قال الحافظ في "التقريب": صدوق له أوهام كثيرة، وباقي رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں