🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن و حدیث کا پیغام پہنچانے میں ہمارے ساتھ تعاون کیجیے۔
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

63. باب فرض الإيمان - ذكر خبر يدل على صحة ما تأولنا لهذه الأخبار-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - ایک خبر کا ذکر جو اس بات کی صحت پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ان روایات کے بارے میں بیان کیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 193
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، وَمَوْهَبُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا حَلِيمَ إِلا ذُو عَثْرَةٍ، وَلا حَكِيمَ إِلا ذُو تَجْرِبَةٍ" قَالَ مَوْهَبٌ: قَالَ لِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: أَيْشٍ كَتَبْتَ بِالشَّامِ؟ فَذَكَرْتُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ: لَوْ لَمْ تَسْمَعْ إِلا هَذَا لَمْ تَذْهَبْ رِحْلَتُكَ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لغزش کے بغیر (کوئی) بردبار نہیں ہوتا اور تجربے کے بغیر (کوئی) دانش مند نہیں ہوتا۔ موہب کہتے ہیں: امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے مجھ سے کہا: کیا تم نے شام میں احادیث نوٹ کی ہیں؟ میں نے ان کے سامنے یہ روایت ذکر کی تو وہ بولے: اگر تم نے صرف یہی روایت وہاں سے سنی ہوئی ہو، تو تمہارا سفر بیکار نہیں گیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 193]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 193، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7894، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2033، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11213، 11840»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «تخريج المشكاة» (5056/التحقيق الثاني).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف لضعف درّاج في روايته عن أبي الهيثم: قال ابنُ الجوزي: تفرد به درّاج، وقد قال أحمد: أحاديثه مناكير، ومع ذلك فقد حسنه الترمذي، وصححه الحاكم ووافقه الذهبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں