صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
89. باب فرض الإيمان - المرء إنما يحقن دمه وماله إذا آمن بكل ما جاء به المصطفى صلى الله عليه وسلم من الله جل وعلا-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - انسان کا خون اور مال اسی وقت محفوظ ہوتا ہے جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور ہر اُس چیز کو مانے جو آپ اللہ جل وعلا کی طرف سے لے کر آئے۔
حدیث نمبر: 220
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَآمَنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ، فَفَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مَنَي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے اس بات کا حق دیا گیا ہے کہ میں ان لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں جب تک وہ یہ اعتراف نہیں کر لیتے کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں“ اور وہ مجھ پر اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس پر ایمان نہیں لے آتے، جب وہ ایسا کریں گے تو وہ اپنی جانیں اور اپنے مال محفوظ کر لیں گے، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الإِيمَانِ/حدیث: 220]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2946، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 21، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2248، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 220،174، 218، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1432، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3090، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2640، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2606، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 71، 3927، والدارقطني فى (سننه) برقم: 892، 1884، 1885، 1886، وأحمد فى (مسنده) برقم: 68»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - وهو مكرر (174): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم