صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
47. باب مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ وَأَسْلَمَ وُجُهَيْنَةَ وَأَشْجَعَ وَمُزَيْنَةَ وَتَمِيمٍ وَدَوْسٍ وَطَيِّئٍ:
باب: قبیلہ غفار، اسلم، جہینہ، اشجع، مزینہ، تمیم، دوس اور طی کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2519 ترقیم شاملہ: -- 6438
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْأَنْصَارُ، وَمُزَيْنَةُ، وَجُهَيْنَةُ، وَغِفَارُ، وَأَشْجَعُ، وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ مَوَالِيَّ دُونَ النَّاسِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُمْ ".
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار، مزینہ، جہینہ، غفار، اشجع اور جو بھی بنو عبداللہ میں سے ہیں (ان کے علاقے میں رہنے والے) باقی لوگوں کو چھوڑ کر میرے اپنے مددگار ہیں اور اللہ اور اس کا رسول ان کے مددگار ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6438]
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار، مزینہ، جہینہ، غفار، اشجع اور (غطفانی قبیلہ کے) بنو عبداللہ کے جو لوگ ہیں، وہ لوگوں کے سوا میرے معاون اور ساتھی ہیں اور اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کارساز ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6438]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2519
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2520 ترقیم شاملہ: -- 6439
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُرَيْشٌ، وَالْأَنْصَارُ، وَمُزَيْنَةُ، وَجُهَيْنَةُ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ".
سفیان (بن سعید) نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ہرمز اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریش، انصار، مزینہ، جہینہ، اسلم، غفار اور اشجع (میرے) مددگار ہیں اور ان کا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی اور مددگار نہیں ہے۔“ (انہیں خالصتاً اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت حاصل ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6439]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریش، انصار، مزینہ، جہینہ، اسلم، غفار اور اشجع میرے معاون ہیں اور ان کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی سرپرست و کارساز نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6439]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2520
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2520 ترقیم شاملہ: -- 6440
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ سَعْدٌ فِي بَعْضِ: هَذَا فِيمَا أَعْلَمُ.
عبیداللہ بن معاذ کے والد نے کہا: ہمیں شعبہ نے سعد بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی، مگر اس حدیث میں یہ ہے کہ سعد نے ان میں سے بعض قبائل کے بارے میں کہا: ”میرے علم کے مطابق۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6440]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہ روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس حدیث میں سعد بن ابراہیم نے بعض قبائل کے لیے جزم کی بجائے «فِيْمَا أَعْلَمُ» ”میرے علم کی حد تک“ کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6440]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2520
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2521 ترقیم شاملہ: -- 6441
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " أَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَمُزَيْنَةُ، وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ جُهَيْنَةُ، خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَبَنِي عَامِرٍ، وَالْحَلِيفَيْنِ، أَسَدٍ، وَغَطَفَانَ ".
سعد بن ابراہیم سے روایت ہے، کہا: میں نے ابوسلمہ سے سنا، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلم، غفار اور مزینہ اور جو لوگ جہینہ سے ہیں یا آپ نے جہینہ فرمایا، بنو تمیم اور بنو عامر اور دو باہمی حلیفوں اسد اور غطفان سے بہتر ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6441]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلم، غفار، مزینہ اور جو لوگ جہینہ خاندان سے ہیں، یا جہینہ، بنو تمیم، بنو عامر اور دونوں حلیفوں، اسد اور غطفان سے بہتر ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6441]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2521
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2521 ترقیم شاملہ: -- 6442
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَغِفَارُ، وَأَسْلَمُ، وَمُزَيْنَةُ، وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوَ قَالَ: جُهَيْنَةُ، وَمَنْ كَانَ مِنْ مُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ، وَطَيِّئٍ، وَغَطَفَانَ ".
ابوزناد اور صالح نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! یقیناً غفار، اسلم، مزینہ اور جو لوگ جہینہ سے ہیں یا آپ نے فرمایا: جہینہ اور جو لوگ مزینہ سے ہیں (خود آکر اسلام قبول کرنے کی بنا پر) قیامت کے دن اللہ کے نزدیک اسد، طے اور غطفان سے بہتر ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6442]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً غفار، اسلم، مزینہ اور جو جہینہ سے تعلق رکھتے ہیں، یا جہینہ اور جو لوگ مزینہ سے ہیں، قیامت کے دن اللہ کے نزدیک اسد، طئی اور غطفان سے ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6442]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2521
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2521 ترقیم شاملہ: -- 6443
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِيَانِ ابْنَ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ وَشَيْءٌ مِنْ مُزَيْنَةَ، وَجُهَيْنَةَ، أَوْ شَيْءٌ مِنْ جُهَيْنَةَ، وَمُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ "، قَالَ: أَحْسِبُهُ، قَالَ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ، وَغَطَفَانَ، وَهَوَازِنَ، وَتَمِيمٍ ".
ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلم، غفار اور مزینہ کے کچھ گھرانے اور جہینہ یا جہینہ کے کچھ گھرانے اور مزینہ، اللہ کے نزدیک۔۔۔“ کہا: میرا خیال ہے (محمد بن سیرین نے) کہا: ”۔۔۔قیامت کے دن اسد، غطفان، ہوازن اور تمیم سے (جنہوں نے خود آکر اسلام قبول نہ کیا) بہتر ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6443]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلم، غفار، مزینہ سے کچھ لوگ اور جہینہ، یا جہینہ کے کچھ لوگ اور مزینہ، اللہ کے نزدیک—میرے خیال میں کہا—قیامت کے دن اسد اور غطفان، ہوازن اور بنو تمیم سے بہتر ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6443]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2521
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2522 ترقیم شاملہ: -- 6444
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا بَايَعَكَ سُرَّاقُ الْحَجِيجِ مِنْ أَسْلَمَ، وَغِفَارَ، وَمُزَيْنَةَ، وَأَحْسِبُ، جُهَيْنَةَ، مُحَمَّدٌ الَّذِي شَكَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَمُزَيْنَةُ، وَأَحْسِبُ، جُهَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَبَنِي عَامِرٍ، وَأَسَدٍ، وَغَطَفَانَ، أَخَابُوا وَخَسِرُوا، فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُمْ لَأَخْيَرُ مِنْهُمْ "، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، مُحَمَّدٌ الَّذِي شَكَّ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں غندر نے شعبہ سے حدیث بیان کی، اسی طرح محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے محمد بن ابی یعقوب سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے سنا، وہ اپنے والد سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ کہ حضرت اقرع بن حابس (تمیمی) رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ سے حاجیوں کا سامان چرانے والے (قبائل) اسلم اور غفار اور مزینہ اور میرا خیال ہے جہینہ (کا بھی نام لیا)۔۔۔ محمد (بن یعقوب) ہیں جنہیں شک ہوا۔ نے بیعت کر لی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اسلم اور غفار اور مزینہ اور میرا خیال ہے (آپ نے فرمایا) جہینہ بنو تمیم، بنو عامر، بنو اسد اور غطفان سے بہتر ہوں تو کیا یہ (قبیلے لوگوں کی نظر میں مرتبے کے اعتبار سے) ناکام ہو جائیں گے، خسارے میں رہیں گے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ ان سے بہت بہتر ہیں۔“ ابن ابی شیبہ کی حدیث میں: ”محمد (بن یعقوب) ہیں جنہیں شک ہوا۔“ (کے الفاظ) نہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6444]
عبدالرحمٰن رحمہ اللہ بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت اقرع بن حابس (تمیمی) رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ سے حاجیوں کا سامان چرانے والے (قبائل) اسلم اور غفار اور مزینہ اور میرا خیال ہے جہینہ (کا بھی نام لیا)۔۔۔ محمد (بن یعقوب) ہیں جنہیں شک ہوا۔ نے بیعت کر لی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اسلم اور غفار اور مزینہ اور میرا خیال ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) جہینہ، بنو تمیم، بنو عامر، بنو اسد اور غطفان سے بہتر ہوں تو کیا یہ (قبیلے لوگوں کی نظر میں مرتبے کے اعتبار سے) ناکام ہو جائیں گے، خسارے میں رہیں گے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ ان سے بہت بہتر ہیں۔“ ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ نہیں ہے کہ شک کا اظہار محمد نے کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6444]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2522
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2522 ترقیم شاملہ: -- 6445
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي سَيِّدُ بَنِي تَمِيمٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيُّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: وَجُهَيْنَةُ، وَلَمْ يَقُلْ: أَحْسِبُ.
عبدالصمد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، کہا: مجھے بنو تمیم کے سردار محمد بن عبداللہ بن ابی یعقوب ضبی نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنائی اور انہوں نے صرف جہینہ کہا: ”میرا خیال ہے“ (کا جملہ) نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6445]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، اس میں «جُهَيْنَة» کا نام بلا شک بیان کیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6445]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2522
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2522 ترقیم شاملہ: -- 6446
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَمُزَيْنَةُ، وَجُهَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَمِنْ بَنِي عَامِرٍ، وَالْحَلِيفَيْنِ بَنِي أَسَدٍ، وَغَطَفَانَ ".
نصر بن علی جہضمی کے والد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے ابوبشر سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ بنو تمیم، بنو عامر اور دو حلیف قبیلوں بنو اسد اور بنو غطفان سے بہتر ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6446]
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ اپنے باپ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے قبائل، بنو تمیم، بنو عامر اور دو حلیفوں بنو اسد اور غطفان سے بہتر ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6446]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2522
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2522 ترقیم شاملہ: -- 6447
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ . ح وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
عبدالصمد اور شبابہ بن سوار نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوبشر سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6447]
امام صاحب مذکورہ اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6447]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2522
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة