صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
20. باب تَحْرِيمِ الْغِيبَةِ:
باب: غیبت حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2589 ترقیم شاملہ: -- 6593
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ، قِيلَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟ قَالَ: " إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟“ انہوں (صحابہ) نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول خوب جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اپنے بھائی کا اس طرح تذکرہ کرنا جو اسے ناپسند ہو۔“ عرض کی گئی: آپ یہ دیکھیں کہ اگر میرے بھائی میں وہ بات واقعی موجود ہو جو میں کہتا ہوں (تو؟) آپ نے فرمایا: ”جو کچھ تم کہتے ہو، اگر اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی، اگر اس میں وہ (عیب) موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگایا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6593]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا جانتے ہو غیبت کیا ہے؟صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے جواب دیا، اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تیرا اپنے بھائی کا تذکرہ کرنا جسے وہ ناپسندکرے پوچھا گیا تو بتائیے اگر جو کچھ میں کہتا ہوں میرے بھائی میں موجود ہو فرمایا اگر جو کچھ تو کہتا ہے اس میں موجود ہے تو نے اس کی غیبت کی اور اس موجود نہیں توتونے اس پر بہتان باندھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6593]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2589
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة