صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. باب مُدَارَاةِ مَنْ يُتَّقَى فُحْشُهُ:
باب: جس کی برائی کا ڈر ہو اس کی ظاہر میں خاطرداری کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 2591 ترقیم شاملہ: -- 6596
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ : أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ائْذَنُوا لَهُ، فَلَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ، أَوْ بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ لَهُ الَّذِي قُلْتَ، ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ، قَالَ: يَا عَائِشَةُ: " إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ، أَوْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ ".
سفیان بن عیینہ نے ابن منکدر سے روایت کی، انہوں نے عروہ بن زبیر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اجازت طلب کی، آپ نے فرمایا: ”اس کو اجازت دے دو، یہ یقیناً اپنے قبیلے کا بُرا فرد ہے، یا فرمایا: قبیلے کا برا مرد ہے۔“ جب وہ شخص اندر آیا تو آپ نے اس کے ساتھ نرمی سے گفتگو کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ نے اس کے بارے میں وہ فرمایا جو فرمایا تھا، پھر آپ نے اس کے ساتھ نرمی سے بات کی؟ آپ نے فرمایا: ”عائشہ! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ رتبے کے اعتبار سے سب سے برا شخص وہ ہو گا جس سے لوگ اس کی بدزبانی سے بچنے کے لیے دور رہیں یا اس کو چھوڑ دیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6596]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اجازت دے دو، یہ اپنے قبیلہ کا برا فرد یا برا آدمی ہے۔“ پھر جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نرمی سے گفتگو فرمائی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس کے بارے میں جو کچھ فرمایا وہ آپ کو معلوم ہے، پھر آپ نے اس سے نرمی سے بات چیت کی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑے مرتبہ کا حامل وہ انسان ہو گا جس کی بدزبانی یا بدکلامی سے بچتے ہوئے لوگ اس کو چھوڑ دیں یا اس سے الگ رہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6596]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2591
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2591 ترقیم شاملہ: -- 6597
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: بِئْسَ أَخُو الْقَوْمِ، وَابْنُ الْعَشِيرَةِ.
معمر نے ابن منکدر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی روایت بیان کی، مگر انہوں نے کہا: ”یہ قوم کا بدترین فرد ہے اور یہ گھرانے کا (بدترین) فرد ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6597]
امام صاحب اسی روایت کے ہم روایت دو اور اساتذہ سے اس فرق سے بیان کرتے ہیں کہ ” «بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ» “ کی جگہ ” «بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ» “ ہے، معنی ایک ہی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ/حدیث: 6597]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2591
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة