🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. باب الخوف والتقوى - ذكر ما يجب على المرء من مجانبة أفعال يتوقع لمرتكبها العقوبة في العقبى بها
خوف اور تقویٰ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ ان افعال سے بچے جن کے مرتکب کے لیے آخرت میں سزا کی توقع ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 655
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَقُولُ: " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْ رُؤْيَا"؟ فَيَقُصُّ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُصَّ، وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا ذَاتَ غَدَاةٍ:" إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ، وَإِنَّهُمَا ابْتَعَثَانِي، وَإِنَّهُمَا، قَالا لِي: انْطَلِقْ، وَإِنِّي انْطَلَقْتُ مَعَهُمَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ، وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِصَخْرَةٍ وَإِذَا هُوَ يَهْوِي بِالصَّخْرَةِ لِرَأْسِهِ، فَيَثْلَغُ بِهَا رَأْسَهُ، فَتُدَهْدِهَهُ الصَّخْرَةُ هَهُنَا، فَيَقُومُ إِلَى الْحَجَرِ فَيَأْخُذُهُ فَمَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ أَحْسِبُهُ قَالَ: حَتَّى يَصِحَّ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ، ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الأُولَى، قَالَ: قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَا هَذَانِ؟ قَالا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُسْتَلْقٍ لِقَفَاهُ وَإِذَا آخَرُ عَلَيْهِ بِكَلُّوبٍ مِنْ حَدِيدٍ، فَإِذَا هُوَ يَأْتِيَ أَحَدَ شِقَّيْ وَجْهِهِ فَيُشَرْشِرُ شِدْقَهُ إِلَى قَفَاهُ، وَمِنْخَرَهُ إِلَى قَفَاهُ، وَعَيْنَهُ إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ إِلَى الْجَانِبِ الآخَرِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِالْجَانِبِ الأَوَّلِ، فَمَا يَفْرُغُ مِنْ ذَلِكَ الْجَانِبِ حَتَّى يَصِحَّ الْجَانِبُ الأَوَّلُ كَمَا كَانَ، ثُمَّ يَعُودُ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الأُولَى، قَالَ: قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا هَذَانِ؟ قَالا: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَأَتَيْنَا عَلَى مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ، قَالَ عَوْفٌ: أَحْسِبُ أَنَّهُ، قَالَ: فَإِذَا فِيهِ لَغَطٌ وَأَصْوَاتٌ، فَاطَّلَعْنَا فَإِذَا فِيهِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ وَإِذَا بِنَهْرٍ لَهِيبٍ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، فَإِذَا أَتَاهُمْ ذَلِكَ اللَّهَبُ تَضَوْضَوْا، قَالَ: قُلْتُ: مَا هَؤُلاءِ؟ قَالا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا عَلَى نَهَرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ: أَحْمَرَ مِثْلِ الدَّمِ وَإِذَا فِي النَّهَرِ رَجُلٌ يَسْبَحُ، وَإِذَا عِنْدَ شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ قَدْ جَمَعَ عِنْدَهُ حِجَارَةً كَثِيرَةً، وَإِذَا ذَلِكَ السَّابِحُ يَسْبَحُ مَا يَسْبَحُ، ثُمَّ يَأْتِي ذَلِكَ الرَّجُلَ الَّذِي جَمَعَ الْحِجَارَةَ، فَيَفْغَرُ لَهُ فَاهُ فَيُلْقِمُهُ حَجَرًا، قَالَ: قُلْتُ: مَا هَؤُلاءِ؟ قَالا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ كَرِيهِ الْمَرْآةِ كَأَكْرَهِ مَا أَنْتَ رَاءٍ رَجُلا مَرْآهُ، فَإِذَا هُوَ عِنْدَ نَارٍ يَحُشُّهَا وَيَسْعَى حَوْلَهَا، قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: مَا هَذَا؟ قَالا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَوْضَةٍ فِيهَا مِنْ كُلِّ نَوْرِ الرَّبِيعِ، وَإِذَا بَيْنَ ظَهْرَيِ الرَّوْضَةِ رَجُلٌ قَائِمٌ طَوِيلٌ لا أَكَادُ أَرَى رَأْسَهُ طُولا فِي السَّمَاءِ، وأَرَى حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ أَكْثَرِ وِلْدَانٍ رَأَيْتُهُمْ قَطُّ وَأَحْسَنَهُ، قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: مَا هَؤُلاءِ؟ قَالا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا وَأَتَيْنَا دَوْحَةً عَظِيمَةً لَمْ أَرَ دَوْحَةً قَطُّ أَعْظَمَ مِنْهَا وَلا أَحْسَنَ، قَالا لِي: ارْقَ فِيهَا، قَالَ: فَارْتَقَيْنَا فِيهَا، فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنِ ذَهَبٍ، وَلَبِنِ فِضَّةٍ، فَأَتَيْنَا بَابَ الْمَدِينَةِ، فَاسْتَفْتَحْنَا، فَفُتِحَ لَنَا، فَقُلْنَا: مَا مِنْهَا رِجَالٌ، شَطْرٌ مِنْ خَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ، وَشَطْرٌ كَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَاءٍ، قَالَ: قَالا لَهُمُ: اذْهَبُوا فَقَعُوا فِي ذَلِكَ النَّهَرِ، فَإِذَا نَهَرٌ مُعْتَرِضٌ يَجْرِي كَأَنَّ مَاءَهُ الْمَحْضُ فِي الْبَيَاضِ، فَذَهَبُوا فَوَقَعُوا فِيهِ، ثُمَّ رَجَعُوا وَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ، وَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، قَالَ:، قَالا لِي: هَذِهِ جَنَّةُ عَدْنٍ، وَهَذَاكَ مَنْزِلُكَ، قَالَ: فَسَمَا بَصَرِي صُعُدًا، فَإِذَا قَصْرٌ مِثْلُ الرَّبَابَةِ الْبَيْضَاءِ، قَالَ:، قَالا لِي: هَذَاكَ مَنْزِلُكَ، قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمَا، ذَرَانِي أَدْخُلْهُ، قَالَ:، قَالا لِي: أَمَّا الآنَ فَلا، وَأَنْتَ دَاخِلُهُ، قَالَ: فَإِنِّي رَأَيْتُ مُنْذُ اللَّيْلَةِ عَجَبًا، فَمَا هَذَا الَّذِي رَأَيْتُ؟ قَالَ:، قَالا لِي: أَمَا إِنَّا سَنُخْبِرُكَ: أَمَّا الرَّجُلُ الأَوَّلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالْحَجَرِ، فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفُضُهُ، وَيَنَامُ عَنِ الصَّلاةِ الْمَكْتُوبَةِ، وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُشَرْشَرُ شِدْقُهُ إِلَى قَفَاهُ، وَعَيْنُهُ إِلَى قَفَاهُ، وَمِنْخَرُهُ إِلَى قَفَاهُ، فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَغْدُو مِنْ بَيْتِهِ فَيَكْذِبُ الْكَذْبَةَ فَتَبْلُغُ الآفَاقَ وَأَمَّا الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ الْعُرَاةُ الَّذِينَ فِي مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ، فَإِنَّهُمُ الزُّنَاةُ وَالزَّوَانِي وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ، فَيَلْتَقِمُ الْحِجَارَةَ، فَإِنَّهُ آكِلُ الرِّبَا، وَأَمَّا الرَّجُلُ الْكَرِيهُ الْمَرْآةِ الَّذِي عِنْدَ النَّارِ يَحُشُّهَا فَإِنَّهُ مَالِكٌ خَازِنُ جَهَنَّمَ، وَأَمَّا الرَّجُلُ الطَّوِيلُ الَّذِي فِي الرَّوْضَةِ، فَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلامُ وَأَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِينَ حَوْلَهُ، فَكُلُّ مَوْلُودٍ وُلِدَ عَلَى الْفِطْرَةِ، قَالَ: فقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَوْلادُ الْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَوْلادُ الْمُشْرِكِينَ، وَأَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ شَطْرٌ مِنْهُمْ حَسَنٌ، وَشَطْرٌ مِنْهُمْ قَبِيحٌ، فَهُمْ قَوْمٌ خَلَطُوا عَمَلا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُمْ".
سیدنا سمرہ بن جندب فزاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دریافت کیا کرتے تھے: ”کیا کسی شخص نے کوئی خواب دیکھا ہے؟“ پھر جو اللہ کو منظور ہوتا تھا وہ شخص اپنا خواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کر دیتا تھا۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”گزشتہ رات دو فرشتے میرے پاس آئے، وہ میرے پاس بھیجے گئے تھے۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا: آپ چلئے! میں ان دونوں کے ساتھ چل پڑا، ہمارا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو لیٹا ہوا تھا اور دوسرا شخص اس کے سرہانے پتھر لیے کھڑا ہوا تھا۔ وہ اپنا پتھر اس شخص کے سر پر مار کر اس پتھر کے ذریعے اس کے سر کو کچل دیتا تھا، پھر پتھر لڑھکتا ہوا دور چلا جاتا تھا، وہ شخص اس پتھر کو لینے کے لیے جاتا تھا اور اسے پکڑ کر واپس اس شخص کے پاس آتا تھا (راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) یہاں تک کہ وہ شخص پہلے کی طرح ٹھیک ہو جاتا تھا، پھر وہ دوبارہ اس کے ساتھ وہی عمل کرتا تھا جس طرح پہلی مرتبہ کیا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے دریافت کیا: «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”اللہ پاک ہے“ ان دونوں کا کیا معاملہ ہے؟ ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا: آپ چلتے رہیے، آپ چلتے رہیے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں ان دونوں کے ساتھ چلتا رہا، یہاں تک کہ ہم ایک شخص کے پاس آئے جو گدی کے بل چت لیٹا ہوا تھا اور دوسرے شخص کے پاس لوہے کا بنا ہوا آنکڑا تھا۔ وہ اس کے منہ کے ایک کنارے کی طرف آتا تھا اور اس کے جبڑے کو گدی تک چیر دیتا تھا اور پھر اس کے نتھنے کو پیچھے گدی تک چیر دیتا تھا اور اس کی آنکھ کو پیچھے گدی تک چیر دیتا تھا، پھر وہ دوسری طرف آتا تھا اور اس کے ساتھ اسی طرح کرتا تھا جس طرح پہلی طرف کیا تھا، پھر جب وہ دوسری طرف سے فارغ ہوتا تھا تو پہلی والی طرف پہلے کی طرح ٹھیک ہو چکی ہوتی تھی، پھر وہ دوبارہ اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتا تھا جس طرح پہلی مرتبہ کیا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے کہا: «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”اللہ پاک ہے“ ان دونوں کا کیا معاملہ ہے؟ ان دونوں فرشتوں نے کہا: آپ چلتے رہیے، آپ چلتے رہیے۔ میں ان دونوں فرشتوں کے ساتھ چلتا رہا، پھر ہم تندور جیسی عمارت کے پاس آئے۔ (عوف نامی راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں) اس میں سے چیخ و پکار اور آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ ہم نے اس میں جھانک کر دیکھا تو اس میں کچھ برہنہ مرد اور خواتین تھیں اور اس تندور کے نیچے آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے۔ جب کوئی شعلہ ان لوگوں کے پاس آتا تھا تو وہ چیخ و پکار کرتے تھے۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ تو ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا: آپ چلتے رہیے، آپ چلتے رہیے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہم ایک نہر کے پاس آئے۔ (راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) جس کا پانی خون کی طرح سرخ تھا۔ اس نہر میں ایک شخص تیر رہا تھا اور اس نہر کے کنارے پر ایک اور شخص موجود تھا جس کے پاس بہت سے پتھر جمع تھے۔ وہ تیرنے والا شخص جب اس شخص کے پاس آتا جس نے پتھر جمع کر رکھے تھے تو وہ اپنا منہ اس شخص کے سامنے کھولتا تھا اور وہ دوسرا شخص اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا: آپ چلتے رہیے، آپ چلتے رہیے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”ہم چلتے رہے، پھر ہم ایک ایسے شخص کے پاس آئے جس کی شکل انتہائی بدصورت تھی، تم نے زندگی میں جو بھی بدصورت ترین شخص دیکھا ہو گا وہ اس کی مانند تھا، وہ شخص ایک آگ کے پاس تھا، وہ اسے جلانے کی کوشش کرتا تھا اور اس کے گرد دوڑتا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے ان دونوں سے دریافت کیا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ ان دونوں نے مجھ سے کہا: آپ چلتے رہیے، آپ چلتے رہیے! پھر ہم روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ہم ایک باغ میں آئے جس میں ہر طرف بہار آئی ہوئی تھی اور اس باغ کے درمیان میں ایک طویل شخص کھڑا ہوا تھا، وہ اتنا اونچا تھا کہ مجھے اس کا سر دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں نے اس شخص کے ارد گرد اس کے ڈھیر سارے بچے دیکھے، لیکن میں نے ان میں سے کوئی بھی بچہ اس سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے ان دونوں سے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے مجھ سے کہا: آپ چلتے رہیے، آپ چلتے رہیے۔ پھر ہم لوگ چلتے رہے، یہاں تک کہ ہم ایک بڑے پھیلے ہوئے درخت کے پاس آ گئے۔ میں نے اس سے بڑا اور اس سے خوبصورت درخت کبھی نہیں دیکھا۔ ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا: آپ اس پر چڑھ جائیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہم اس پر چڑھ گئے تو ہم ایک شہر میں پہنچ گئے جس کی عمارتیں سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنی ہوئی تھیں۔ ہم اس شہر کے دروازے پر آئے۔ ہم نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، دروازہ کھول دیا گیا، تو ہم نے وہاں ایسے لوگ دیکھے جن میں سے نصف ایسے ہوں گے جو تم نے سب سے زیادہ خوبصورت لوگ دیکھے ہوں اور نصف ایسے ہیں جو تم نے سب سے زیادہ بدصورت دیکھے ہوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان دونوں فرشتوں نے ان لوگوں سے کہا: تم لوگ جاؤ اور اس نہر میں داخل ہو جاؤ۔ وہ نہر چوڑی تھی اور بہہ رہی تھی، اس کا پانی سفیدی کے اعتبار سے خالص دودھ کی طرح تھا۔ وہ لوگ گئے اور اس میں داخل ہو گئے۔ پھر جب وہ لوگ واپس آئے تو ان کی خرابی ختم ہو چکی تھی اور ان کی شکلیں انتہائی خوبصورت ہو چکی تھیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا: یہ جنتِ عدن ہے اور یہ آپ کا ٹھکانہ ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے نگاہ اٹھا کر بلندی کی طرف دیکھا تو وہاں ایک محل تھا جو سفید بادل کی مانند تھا۔ ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا: یہ آپ کی رہائش گاہ ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں نے ان دونوں سے کہا: «بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمَا» ”اللہ تعالیٰ تم دونوں میں برکت نصیب فرمائے“ مجھے موقع دو کہ میں اس کے اندر چلا جاؤں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان دونوں نے مجھ سے کہا: ابھی نہیں، لیکن آپ اس میں داخل ہو جائیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے گزشتہ رات جو حیران کن چیزیں دیکھی ہیں، تو جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟ تو ان فرشتوں نے مجھ سے کہا: ہم آپ کو اس کی حقیقت بتاتے ہیں۔ جہاں تک اس پہلے شخص کا تعلق ہے جس کے پاس آپ تشریف لائے تھے جس کے سر کو پتھر کے ذریعے کچلا جا رہا تھا، تو یہ وہ شخص تھا جس نے قرآن کا علم حاصل کیا اور پھر اسے پرے کر دیا اور یہ فرض نماز کے وقت سویا رہ جاتا تھا۔ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جس کے پاس آپ تشریف لائے تھے جس کی باچھوں کو گدی تک اور اس کی آنکھوں کو گدی تک اور اس کے نتھنوں کو گدی تک چیرا جا رہا تھا، تو یہ وہ شخص تھا جو اپنے گھر سے نکلتا تھا اور ایک جھوٹ بولتا تھا اور اس کا جھوٹ دنیا میں پھیل جاتا تھا۔ جہاں تک ان برہنہ مردوں اور خواتین کا تعلق ہے جو تندور نما عمارت کے اندر موجود تھے، تو یہ زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورتیں تھیں۔ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جو نہر میں تھا اور پتھر منہ میں لے رہا تھا، تو یہ سود کھانے والا شخص تھا۔ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جو انتہائی بدصورت تھا اور جو آگ کے پاس تھا اور اسے دہکاتا تھا، تو یہ «مَالِكٌ» ”مالک“ تھا جو جہنم کا داروغہ ہے۔ جہاں تک اس طویل شخص کا تعلق ہے جو باغ میں تھا، تو وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام تھے۔ جہاں تک ان کے ارد گرد موجود بچوں کا تعلق ہے، تو ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: مسلمانوں میں سے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! مشرکین کی اولاد کا کیا حکم ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرکین کی اولاد بھی (فطرت پر پیدا ہوتی ہے)۔ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جن میں سے آدھے لوگ خوبصورت تھے اور آدھے لوگ بدصورت تھے، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نیکیوں کے ساتھ برے اعمال بھی کیے، ان سے اللہ تعالیٰ نے درگزر فرمایا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 655]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 845، 1143، 1386، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2275، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 942، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 655، 4659، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2294، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20411» «رقم طبعة با وزير 654»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (137): خ. * [فَتَلَقَّانَا فِيهَا] قال الشيخ: تحرفت في طبعتي «الإحسان» إلى: «فقلنا: ما منها»!! والتصويب من صحيح البخاري (7047). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، عيسى بن أحمد روى له الترمذي والنسائي، وهو ثقة، ومن فوقه من رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں