صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
269. باب الأدعية - ذكر الزجر عن الإشارة في الدعاء بالأصبعين
دعاؤں کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ دعا میں دو انگلیوں سے اشارہ نہ کیا جائے
حدیث نمبر: 884
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلا يَدْعُو بِأُصْبُعَيْهِ جَمِيعًا، فَنَهَاهُ، وَقَالَ: بِإِحْدَاهُمَا، بِالْيُمْنَى . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَضْمَرَ فِيهِ أَنَّ الإِشَارَةَ بِالأُصْبُعَيْنِ لِيَكُونَ إِلَى الاثْنَيْنِ، وَالْقَوْمُ عَهْدُهُمْ كَانَ قَرِيبًا بِعِبَادَةِ الأَصْنَامِ وَالإِشْرَاكِ بِاللَّهِ، فَمِنْ أَجْلِهِمَا أَمَرَ بِالإِشَارَةِ بِأُصْبُعٍ وَاحِدٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دو انگلیوں کے ذریعے دعا مانگتے دیکھا اور ایک انگلی کے ذریعے اشارہ کرنے کے لئے کہا: جو دائیں ہاتھ کی ہوتی ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس میں بات کی طرف اشارہ پوشیدہ ہے، دو انگلیوں کے ذریعے دو چیزوں کی طرف اشارہ ہوتا ہے، اور وہ لوگ کیونکہ بتوں کی عبادت اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے کے زمانے کے قریب تھے۔ اس لئے انہیں ایک انگلی کے ساتھ اشارہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 884]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس میں بات کی طرف اشارہ پوشیدہ ہے، دو انگلیوں کے ذریعے دو چیزوں کی طرف اشارہ ہوتا ہے، اور وہ لوگ کیونکہ بتوں کی عبادت اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے کے زمانے کے قریب تھے۔ اس لئے انہیں ایک انگلی کے ساتھ اشارہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 884]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 881»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1344).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير عبد الله بن عمر- وهو محمد بن أبان- فمن رجال مسلم، وهشام. هوابن حسان.