🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

366. باب الأدعية - ذكر ما يجب على المرء من الاقتصار على حمد الله جل وعلا بما من عليه من الهداية وترك التكلف في سؤال
دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اللہ جل وعلا کی حمد پر اکتفا کرے جو اسے ہدایت کی نعمت سے نوازتا ہے اور سؤال میں تکلف سے بچے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 982
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَمِّ، قُلْ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ أَشْهَدْ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ". قَالَ أَبُو جَهْلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ: يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ قَالَ: فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدُ لَهُ تِلْكَ الْمَقَالَةَ، حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَى أَنْ يَقُولَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ" فَأَنْزَلَ اللَّهُ: مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ سورة التوبة آية 113 وَأُنْزِلَتْ فِي أَبِي طَالِبٍ إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ سورة القصص آية 56 .
سعید بن مسیب رحمہ اللہ اپنے والد (مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اس وقت ابوطالب کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابوامیہ بھی موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے چچا جان! آپ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھ لیجیے، اس کلمہ کی وجہ سے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کے لیے گواہی دوں گا۔“ ابوجہل اور عبداللہ بن ابوامیہ بولے: اے ابوطالب! کیا تم عبدالمطلب کے دین سے منہ موڑ رہے ہو؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے مسلسل یہی پیشکش کرتے رہے اور یہی بات دہراتے رہے، یہاں تک کہ ابوطالب نے ان لوگوں کے ساتھ جو آخری بات کی وہ یہ تھی کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر ہیں، اور انہوں نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ» پڑھنے سے انکار کر دیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں آپ کے لیے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتا رہوں گا، جب تک مجھے اس سے منع نہیں کر دیا جاتا۔“ تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ﴾ [سورة التوبة: 113] ”نبی اور اہل ایمان کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں اگرچہ وہ ان کے قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہوں، اس کے بعد کہ ان لوگوں کے سامنے یہ بات واضح ہو چکی ہو کہ وہ لوگ جہنمی ہیں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) یہ آیت ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی تھی: ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ﴾ [سورة القصص: 56] ”بے شک تم اسے ہدایت نہیں دیتے جسے تم پسند کرتے ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اسے ہدایت دیتا ہے، اور وہ ہدایت پانے والوں کے بارے میں زیادہ جانتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 982]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1360، 3884، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 24، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 982، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2034، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2173، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24164» «رقم طبعة با وزير 978»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1273): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير حرملة، فمن رجال مسلم. ويونس: هو ابن يزيد بن أبي النجاد الأيلي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں