صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
369. باب الأدعية - ذكر الزجر عن أن يدعو المرء لنفسه ويعقب دعاءه بسؤال الله منع ذلك غيره
دعاؤں کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ آدمی اپنے لیے دعا کرے اور اس کے بعد اللہ سے مانگے کہ دوسروں کو اس سے محروم رکھے
حدیث نمبر: 985
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، وَهُوَ جَالِسٌ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ وَلا تَغْفِرْ لأَحَدٍ مَعَنَا. قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" لَقَدِ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا" ثُمَّ وَلَّى الأَعْرَابِيُّ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَحَّجَ لِيَبُولَ، فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ بَعْدَ أَنْ فَقِهَ فِي الإِسْلامِ: فَقَامَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُؤَنِّبْنِي، وَلَمْ يَسُبَّنِي، وَقَالَ:" إِنَّمَا بُنِيَ هَذَا الْمَسْجِدُ لِذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلاةِ، وَإِنَّهُ لا يُبَالُ فِيهِ، ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَأَفْرَغَهُ عَلَيْهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی مسجد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف فرما تھے، وہ بولا: اے اللہ! تو میری اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت کر دے اور تو ہمارے ساتھ کسی اور کی مغفرت نہ کرنا۔ راوی بیان کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ہے۔“ پھر وہ دیہاتی مڑ کر واپس چلا گیا، وہ مسجد کے کنارے پر پہنچا، تو وہ پیشاب کرنے کے ارادے سے رکا۔ وہ دیہاتی مسلمان ہو جانے کے بعد یہ بات بیان کرتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر میرے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ فرمایا: ”یہ مسجد اللہ کا ذکر کرنے کے لیے اور نماز ادا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس میں پیشاب نہیں کرنا چاہیے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ڈول منگوایا اور وہ اس پر بہا دیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الرَّقَائِقِ/حدیث: 985]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 220، 6010، 6128، وابن الجارود فى "المنتقى"، 158، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 297، 298، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 985، 987، 1399، 1400، 1402، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 56، وأبو داود فى (سننه) برقم: 380، 882، والترمذي فى (جامعه) برقم: 147، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 529، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4306، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7375» «رقم طبعة با وزير 981»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (406 و 825): خ مُفرَّقاً. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، محمد بن عمرو- وهو ابن علقمة- روى له البخاري ومسلم مقروناً، وهو صدوق، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين غير على بن خشرم فمن رجال مسلم.