🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

90. باب نواقض الوضوء - ذكر الخبر الدال على أن الأمر بالوضوء من أكل لحوم الإبل إنما هو الوضوء المفروض للصلاة دون غسل اليدين
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اونٹ کے گوشت کے کھانے سے وضو کا حکم وہ وضو ہے جو نماز کے لیے فرض ہے، نہ کہ صرف ہاتھ دھونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1128
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَنُصَلِّي فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ؟ قَالَ:" لا". قِيلَ: أَنُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" نَعَمْ". قِيلَ: أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ؟ قَالَ:" نَعَمْ". قِيلَ: أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" لا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي سُؤَالِ السَّائِلِ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ، وَعَنِ الصَّلاةِ فِي أَعْطَانِهَا، وَتَفْرِيقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْجَوَابَيْنِ: أَرَى الْبَيَانَ أَنَّهُ أَرَادَ الْوُضُوءَ الْمَفْرُوضَ لِلصَّلاةِ، دُونَ غَسْلِ الْيَدَيْنِ، وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ غَسْلَ الْيَدَيْنِ مِنَ الْغَمْرِ لاسْتَوَى فِيهِ لُحُومُ الإِبِلِ وَالْغَنَمِ جَمِيعًا، وَقَدْ كَانَ تَرْكُ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ، وَبَقِيَ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ مُدَّةً، ثُمَّ نُسِخَ ذَلِكَ، وَبَقِيَ لُحُومُ الإِبِلِ مُسْتَثْنًى مِنْ جُمْلَةِ مَا أُبِيحَ بَعْدَ الْحَظْرِ الَّذِي تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهُ.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا ہم اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں۔ عرض کی گئی: کیا ہم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جی ہاں عرض کی گئی: ہم بکری کا گوشت کھا کر وضو کیا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سائل کے سوال میں اونٹوں کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنے اور اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا کرنے کا تذکرہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں جوابوں میں فرق کیا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ کی مراد یہ ہے، وہ وضو جو فرض نماز کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس سے مراد دونوں ہاتھ دھونا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے، ہو کی وجہ سے دونوں ہاتھ دھونا مراد ہوتا، تو اس بارے میں اونٹوں کے گوشت اور بکریوں کے گوشت کا حکم برابر ہوتا۔ پہلے یہ حکم تھا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے پر سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ حکم منسوخ ہو گیا، اور اونٹوں کا گوشت کا حکم مستثنی طور پر باقی رہا۔ جس کا استثنی ان چیزوں سے کیا گیا جنہیں بعد میں مباح قرار دیا گیا تھا، جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1128]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1125»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (138)، «الإرواء» (118).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، عبد الله بن عبد الله الرازي: وثقه غير واحد من الأئمة، وقال النسائي: لا بأس به، روى له أصحاب السنن. وباقي رجال الإسناد على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں