🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

274. باب المسح على الخفين وغيرهما - ذكر البيان بأن المسح على الخفين للمقيم والمسافر معا إنما أبيح عن الأحداث دون الجنابة
موزوں اور دیگر (جوتوں یا پٹیوں وغیرہ) پر مسح کرنے کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ موزوں پر مسح مقیم اور مسافر دونوں کے لیے احداث سے جائز ہے، جنابت سے نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1320
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ حَاكَ فِي نَفْسِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفِينِ، فَهَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفِينِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ،" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنَّا سَفَرًا، أَوْ مُسَافِرِينَ، أَنْ لا نَنْزِعَ، أَوْ نَخْلَعَ خِفَافَنَا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ مِنْ غَائِطٍ وَلا بَوْلٍ، إِلا مِنَ الْجَنَابَةِ" .
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن ہے کیا آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! اللہ کے رسول نے ہمیں یہ حکم دیا تھا جب ہم سفر کی حالت میں ہوں (راوی کہتے ہیں شاید یہ الفاظ ہیں) جب ہم مسافر ہوں، تو پاخانہ یا پیشاب کرنے کے بعد (وضو کرتے ہوئے) تین دن اور تین راتوں تک اپنے موزے الگ نہ کریں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اتاریں نہیں البتہ جنابت کا حکم مختلف ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1320]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1317»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الإرواء» (104).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، عبد الرحمن بن عمرو البجلي هو الحراني، روى عن جمع، وذكره المؤلف في «الثقات» 8/ 381، وقال أبو زرعة: شيخ فيما نقله عنه ابن أبي حاتم 5/ 267، وقد توبع عليه، وباقي رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1321
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلَمْ، قَالَ:" فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلَمْ رِضًا لَمْا يَطْلُبُ" . قُلْتُ: حَكَّ فِي نَفْسِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفِينِ، بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، وَكُنْتَ امْرَأً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ،" كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفْرًا، أَوْ مُسَافِرِينَ، أَنْ لا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، إِلا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ" . قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ يَذْكُرُ الْهَوَى؟ قَالَ: نَعَمْ، بَيْنَا نَحْنُ مَعَهُ فِي مَسِيرٍ، فَنَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيٍّ: يَا مُحَمَّدُ، فَأَجَابَهُ عَلَى نَحْوِ كَلامِهِ، قَالَ:" هَاؤُمُ"، قُلْنَا: وَيْلَكَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتَكَ، فَإِنَّكَ نُهِيتَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلا أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمْا يَلْحَقُهُمْ؟ قَالَ:" هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ مَنْ أَحَبَّ" . ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُحَدِّثُنَا، حَتَّى ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُحَدِّثُنَا، حَتَّى قَالَ:" إِنَّ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ بَابًا فَتَحَهُ اللَّهُ لِلتَّوْبَةِ مَسِيرَةَ أَرْبَعِينَ سَنَةً، يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ، فَلا يُغْلِقُهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْهُ" .
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے دریافت کیا: تم کیوں آئے ہو۔ میں نے جواب دیا: علم کے حصول کے لئے انہوں نے فرمایا۔ طالب علم کی طلب سے راضی ہو کر فرشتے اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں۔ میں نے عرض کی: پاخانہ اور پیشاب کرنے کے بعد (وضو کرتے ہوئے) موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن ہے۔ آپ صحابی رسول ہیں۔ میں آپ کی خدمت میں اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ کیا آپ نے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی زبانی اس بارے میں کچھ سنا ہے، تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیتے تھے۔ جب ہم سفر کی حالت میں ہوں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جب ہم مسافر ہوں، تو تین دن اور تین راتوں تک اپنے موزے نہ اتاریں البتہ جنابت کا حکم مختلف ہے، تاہم پاخانہ پیشاب یا نیند کی (صورت میں وضو ٹوٹنے پر وضو کرتے ہوئے ہم انہیں نہیں اتاریں گے) میں نے ان سے دریافت کیا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواہش کے بارے میں کوئی چیز ذکر کرتے ہوئے سنا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ایک مرتبہ ہم سفر کر رہے تھے۔ ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز میں پکارا اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کلام کی مانند (بلند آواز میں) اسے جواب دیا: فرمایا: آگے آ جاؤ ہم نے (اس دیہاتی) سے کہا: تمہارا ستیاناس ہو تم اپنی آواز کو پست کرو۔ تمہیں اس بات سے منع کیا گیا ہے۔ (تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اونچی آواز میں بات کرو) اس شخص نے عرض کی: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہے، لیکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہوتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ ہو گا، جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ہمارے ساتھ بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی: مغرب کی سمت میں ایک دروازہ ہے، جس کی چوڑائی چالیس برس کی مسافت جتنی ہے۔اللہ تعالیٰ نے جس دن زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کیا اس دن اسے توبہ کے لئے پیدا کیا تھا اور وہ اسے اس وقت تک بند نہیں کرے گا، جب تک سورج اس (مغرب کی) طرف سے طلوع نہیں ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1321]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1318»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 62 و 4/ 73)، «الروض النضير» (360).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں