الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
274. باب المسح على الخفين وغيرهما - ذكر البيان بأن المسح على الخفين للمقيم والمسافر معا إنما أبيح عن الأحداث دون الجنابة
موزوں اور دیگر (جوتوں یا پٹیوں وغیرہ) پر مسح کرنے کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ موزوں پر مسح مقیم اور مسافر دونوں کے لیے احداث سے جائز ہے، جنابت سے نہیں
حدیث نمبر: 1320
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ حَاكَ فِي نَفْسِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفِينِ، فَهَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفِينِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ،" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنَّا سَفَرًا، أَوْ مُسَافِرِينَ، أَنْ لا نَنْزِعَ، أَوْ نَخْلَعَ خِفَافَنَا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ مِنْ غَائِطٍ وَلا بَوْلٍ، إِلا مِنَ الْجَنَابَةِ" .
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن ہے کیا آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! اللہ کے رسول نے ہمیں یہ حکم دیا تھا جب ہم سفر کی حالت میں ہوں (راوی کہتے ہیں شاید یہ الفاظ ہیں) جب ہم مسافر ہوں، تو پاخانہ یا پیشاب کرنے کے بعد (وضو کرتے ہوئے) تین دن اور تین راتوں تک اپنے موزے الگ نہ کریں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اتاریں نہیں البتہ جنابت کا حکم مختلف ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1320]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1317»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الإرواء» (104).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، عبد الرحمن بن عمرو البجلي هو الحراني، روى عن جمع، وذكره المؤلف في «الثقات» 8/ 381، وقال أبو زرعة: شيخ فيما نقله عنه ابن أبي حاتم 5/ 267، وقد توبع عليه، وباقي رجاله ثقات.
الرواة الحديث:
زر بن حبيش الأسدي ← صفوان بن عسال المرادي