🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

165. باب المساجد - ذكر فضل الصلاة في المسجد الحرام على الصلاة في مسجد المدينة بمائة صلاة
مساجد کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مسجد الحرام میں نماز کی فضیلت مدینہ کے مسجد کی نسبت سو گنا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1620
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَصَلاةٌ فِي ذَاكَ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ صَلاةٍ فِي هَذَا" ، يَعْنِي فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ اور کسی بھی جگہ پر ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے وہاں ایک نماز ادا کرنا یہاں ایک سو نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ (راوی کہتے ہیں) اس سے مراد مدینہ منورہ کی مسجد ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1620]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1618»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (4/ 146).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1621
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، بِحِمْصَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُذْحَجِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، وأبي عبد الله الأغر ، أنهما سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ: " صَلاةٌ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرُ الأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ مَسْجِدَهُ آخِرُ الْمَسَاجِدِ" ، قَالَ أَبُو سَلَمْةَ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ: لَمْ نَشُكَّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنَعَنْا ذَلِكَ أَنْ نَسْتَثْبِتَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ، حَتَّى إِذَا تُوُفِي أَبُو هُرَيْرَةَ، تَذَاكَرْنَا ذَلِكَ وَتَلاوَمْنَا أَنْ لا نَكُونُ كَلَمْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي ذَلِكَ، حَتَّى يُسْنِدَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ سَمِعَهُ مِنْهُ، فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ، إِذْ جَالَسْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ الْحَدِيثَ، وَالَّذِي فَرَّطْنَا فِيهِ مِنْ نَصِّ أَبِي هُرَيْرَةَ فِيهِ، فَقَالَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنِّي آخِرُ الأَنْبِيَاءِ وَإِنَّهُ آخِرُ الْمَسَاجِدِ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ آخِرُ الْمَسَاجِدِ" يُرِيدُ بِهِ آخِرُ الْمَسَاجِدِ لِلأَنْبِيَاءِ، لا أَنَّ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ آخِرُ مَسْجِدٍ بُنِيَ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ اللہ کے رسول کی مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ اور کسی بھی جگہ پر ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کی مسجد آخری مسجد ہے۔ (یعنی جو کسی نبی سے منسوب ہو گی) ابوسلمہ اور ابوعبداللہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: ہمیں اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے طور پر یہ بات بیان کیا کرتے تھے لیکن ہم اس وجہ سے اس حدیث کو بیان کرنے سے رکے رہے، تاکہ پہلے ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کی تصدیق کر لیں، یہاں تک کہ جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو ہم آپس میں اس روایت کا تذکرہ کیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کو ملامت کیا کرتے تھے کہ ہم نے اس روایت کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کیوں نہیں کی تاکہ وہ اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر دیتے اگر انہوں نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ ایک مرتبہ ہم اسی حالت میں عبداللہ بن ابراہیم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ہم نے اس حدیث کا تذکرہ کیا اور اس بارے میں ہم سے جو کوتاہی ہوئی تھی کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حتمی رائے ہم نے نہیں لی تھی۔ اس کا بھی تذکرہ کیا، تو عبداللہ بن ابراہیم نے ہمیں کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: میں آخری نبی ہوں اور یہ آخری مسجد ہے (جو کسی نبی کی طرف منسوب ہو گئی)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یہ مساجد میں سے آخری ہے اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ یہ انبیاء سے متعلق مساجد میں سے آخری ہے کیونکہ مدینہ منورہ کی یہ مسجد اس حوالے سے آخری مسجد ہے، جو دنیا میں بنائی گئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1621]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1619»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» - أيضاً - (4/ 143 / 971): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، كثير بن عبيد المذحجي: ثقة روى له أبو داود، والنسائي، وابن ماجة، وباقي رجاله على شرط الشيخين سوى عبد الله بن إبراهيم بن قارظ، ويقال: إبراهيم بن عبد الله بن قارظ، فإنه من رجال مسلم، والزبيدي: هو محمد بن الوليد، وأبو عبد الله الأعز: هو سلمان.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں