🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

252. باب شروط الصلاة - ذكر البيان بأن الأمر بالصلاة في ثوبين إنما أمر لمن وسع الله عليه وإن كانت الصلاة في ثوب واحد مجزئة
نماز کی شرائط کا بیان - اس بات کا بیان کہ دو کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم اس کے لیے ہے جسے اللہ نے وسعت دی، اور ایک کپڑے میں نماز کافی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1714
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ؟ قَالَ: " إِذَا وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، فَأَوْسِعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، جَمَعَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ، صَلَّى رَجُلٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ، فِي إِزَارٍ وَقَمِيصٍ، فِي إِزَارٍ وَقَبَاءٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَمِيصٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَرِدَاءٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَبَاءٍ، فِي تُبَّانٍ وَقَمِيصٍ، فِي تُبَّانٍ وَقَبَاءٍ" ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ، قَالَ: فِي تُبَّانٍ، وَرِدَاءٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز ادا کر سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگراللہ تعالیٰ تمہیں گنجائش دے، تو تم اپنے آپ کو گنجائش دو آدمی اپنے جسم پر دو طرح کے کپڑے اکٹھے کرے۔ آدمی تہبند اور چادر میں، یا تہبند اور قمیص میں، یا تہبند اور قبا میں، یا شلوار اور چادر میں، یا شلوار اور قبا میں یا پاجامے اور قمیص میں یا پاجامے اور قیا میں نماز ادا کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا: پاجامے اور چادر میں (نماز ادا کرے) [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1714]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 358، 365، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 515، ومالك فى (الموطأ) برقم: 465، وابن الجارود فى "المنتقى"، 189، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 758، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1714، 2295، 2296، 2298، 2303، 2306، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 762، وأبو داود فى (سننه) برقم: 625، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1410، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1047، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1091، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7270» «رقم طبعة با وزير 1711»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح؛ بسؤال الرجل فقط، سقط منه جوابه صلى الله عليه وسلم إيَّاهُ، كما سقط منه سؤال رجل آخر لعمر؛ فأجابه بقوله: «إذا وسع الله ... » الخ، وسيأتي على الصواب برقم (2295) - «الضعيفة» (5746). تنبيه!! رقم (2295) = (2298) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1715
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءَ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ، إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ " أَنْزَلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ، فَاسْتَقْبِلُوهَا، وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ، فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ" .
عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے ایک مرتبہ لوگ قبا میں صبح کی نماز ادا کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے ان سے کہا: اللہ کے رسول پر گزشتہ رات قرآن نازل ہوا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے، آپ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر لیں تو تم لوگ بھی اس کی طرف رخ کر لو۔ ان لوگوں کے چہرے اس وقت شام کی طرف تھے، تو وہ گھوم کر خانہ کعبہ کی طرف ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1715]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 403، 4488، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 525، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 435، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1715، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 492، والترمذي فى (جامعه) برقم: 341، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1071، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4732» «رقم طبعة با وزير 1712»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1/ 322 / 290): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں