صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
661. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الزجر عن أن يؤم الزائر المزور في بيته إلا بإذنه
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ مہمان اپنے میزبان کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر امامت کرے
حدیث نمبر: 2144
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَابْنُ كَثِيرٍ ، وَالْحَوْضِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَؤُمُّ الْقَوْمُ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلا يَؤُمُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي بَيْتِهِ، وَلا فِي فُسْطَاطِهِ، وَلا يَقْعُدُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلا بِإِذْنِهِ" . قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لإِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ: مَا تَكْرِمَتُهُ؟ قَالَ: فِرَاشُهُ. وَلَمْ يَذْكُرُهُ الْحَوْضِيُّ: فَقُلْتُ لإِسْمَاعِيلَ.
سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو اللہ کی کتاب کا سب سے زیادہ علم رکھتا ہو اگر وہ لوگ قرأت کے حوالے سے برابر ہوں تو ان کی امامت وہ شخص کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو اگر وہ ہجرت کے حوالے سے بھی برابر ہو، تو اس کی امامت وہ شخص کرے جو عمر میں زیادہ ہو اور کوئی بھی شخص کسی دوسرے کے گھر میں، یا خیمے میں اس کی امامت نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھے البتہ اس کی اجازت کا حکم مختلف ہیں۔“ شعبہ کہتے ہیں اسماعیل سے دریافت کیا: لفظ تقرمہ سے مراد کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: اس کا بچھونا حوضی نامی راوی نے یہ بات نقل نہیں کی ہے، میں نے اسماعیل سے دریافت کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2144]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2141»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (2130). تنبيه!! رقم (2130) = (2133) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، أبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك الطيالسي، وابن كثير: هو حفص بن عمر.