صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
747. باب الحدث في الصلاة - ذكر الإباحة للإمام إذا أحدث أن يترك تولية الإمامة لغيره عند إرادته الطهارة لحدثه
نماز میں حدث کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ اگر امام کو حدث ہو جائے تو وہ اپنی امامت کسی اور کو سونپ کر طہارت کے لیے جا سکتا ہے
حدیث نمبر: 2235
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ زِيَادٍ الأَعْلَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَبَّرَ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ يَوْمًا، ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ، ثُمَّ انْطَلَقَ، فَاغْتَسَلَ، فَجَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَصَلَّى بِهِمْ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُ أَبِي بَكْرَةَ:" فَصَلَّى بِهِمْ"، أَرَادَ: يَبْدَأُ بِتَكْبِيرٍ مُحْدَثٍ، لا أَنَّهُ رَجَعَ فَبَنَى عَلَى صَلاتِهِ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَذْهَبَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَغْتَسِلَ، وَيَبْقَى النَّاسُ كُلُّهُمْ قِيَامًا عَلَى حَالَتِهِمْ مِنْ غَيْرِ إِمَامٍ لَهُمْ إِلَى أَنْ يَرْجِعَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنِ احْتَجَّ بِهَذَا الْخَبَرِ فِي إِبَاحَةِ الْبِنَاءِ عَلَى الصَّلاةِ، لَزِمَهُ أَنْ لا يُفْسِدَ وُقُوفَ الْمَأْمُومِ بِلا إِمَامٍ مِقْدَارَ مَا ذَهَبَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلَ إِلَى أَنْ رَجَعَ مِنْ غَيْرِ قِرَاءَةٍ تَكُونُ مِنْهُمْ، وَلَمَّا صَحَّ نَفْيُهُمْ جَوَازَ مَا وَصَفْنَا، صَحَّ أَنَّ الْبِنَاءَ غَيْرُ جَائِزٍ فِي الصَّلاةِ، وَيَلْزَمُهُمْ مِنْ جِهَةٍ أُخْرَى أَنْ يُوجِبُوا الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الإِمَامِ، لأَنَّهُ لا بُدَّ مِنْ أَحَدِ الأَمْرَيْنِ: إِمَّا أَنْ يُجِيزُوا وُقُوفَ الْمَأْمُومِينَ فِي صَلاتِهِمْ بِلا قِرَاءَةٍ وَلا إِمَامٍ مُدَّةَ مَا وَصَفْنَا، أَوْ لِيُسَوِّغُوا لِلْمَأْمُومِينَ الَّذِينَ وَصَفْنَا نَعْتَهُمُ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الإِمَامِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ قُدَّامَهُمْ إِمَامٌ قَائِمٌ.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فجر کی نماز میں تکبیر کہی پھر آپ نے لوگوں کی طرف اشارہ کیا (کہ وہ ٹھہرے رہیں) پھر آپ تشریف لے گئے۔ آپ نے غسل کیا۔ آپ تشریف لائے، تو آپ کے سر سے قطرے ٹپک رہے تھے۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی اس سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے سرے سے تکبیر کہہ کر ایسا کیا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس تشریف لا کر پہلے والی نماز پر بناء قائم کی کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا کر غسل کریں۔ اور لوگ سارے کے سارے اپنی حالت میں کسی امام کے بغیر قیام کی حالت میں کھڑے رہیں یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آ جائیں۔ جس شخص نے اس روایت کے ذریعے یہ استدلال کیا ہے کہ نماز پر بناء قائم کرنا مباح ہے۔ اس کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ وہ امام کے بغیر مقتدی کے کھڑے ہونے کو فاسد قرار نہ دے۔ جس کی مقدار اتنی ہو۔ جتنی دیر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تھے آپ نے غسل کیا تھا۔ یہاں تک کہ آپ واپس تشریف لے آئے تھے اور اس دوران مقتدیوں نے قرأت بھی نہ کی ہو۔ تو جب اس کا ہماری ذکر کردہ چیز کے جائز ہونے کی نفی کرنا درست ہو گا تو یہ بات بھی ثابت ہو جائے گی کہ نماز کے دوران بناء قائم کرنا جائز نہیں ہے۔ اور ان لوگوں پر نئے سرے سے یہ بات لازم ہو گی کہ وہ امام کے پیچھے قرأت کو لازم قرار دیں۔ کیونکہ ان دونوں میں سے کوئی ایک معاملہ ضروری ہو گا۔ یا تو وہ مقتدیوں کے نماز کے دوران کسی قرأت اور امام کے بغیر کھڑے رہنے کو جائز قرار دیں گے۔ جس کی مدت اتنی ہو۔ جتنی ہم نے ذکر کی ہے۔ یا پھر ایسا ہے کہ ان مقتدیوں کو وہ اس طرف لے کر جائیں گے۔ جس کا ہم نے ذکر کیا ہے کہ انہیں امام کے پیچھے قرأت کرنی پڑے گی۔ اگرچہ ان کے آگے امام کھڑا نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2235]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2232»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (227 و 228).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح بطرقه وشواهده، رجاله ثقات رجال الصحيح، إلا أن فيه عنعنة الحسن وهو البصري، وأخرج البخاري في «صحيحه» عدة أحاديث من رواية الحسن عن أبي بكرة، أبو خليفة شيخ المؤلف: هو الفضل بن الحباب، وأبو الوليد الطيالسي: هو هشام بن عبد الملك.