صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
748. باب الحدث في الصلاة - ذكر خبر قد يوهم عالما من الناس أنه مضاد لخبر أبي بكرة الذي ذكرناه
نماز میں حدث کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض علماء کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے بیان کردہ ابو بکرہ کی خبر کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 2236
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ، حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلاهُ، وَانْتَظَرْنَا أَنْ يُكَبِّرَ، انْصَرَفَ، وَقَالَ:" عَلَى مَكَانِكُمْ"، وَدَخَلَ بَيْتَهُ، وَمَكَثْنَا عَلَى هَيْئَتِنَا حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا يَنْطِفُ رَأْسُهُ وَقَدِ اغْتَسَلَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَانِ فِعْلانِ فِي مَوْضِعَيْنِ مُتَبَايِنَيْنِ، خَرَجَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً فَكَبَّرَ، ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ، فَانْصَرَفَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ جَاءَ، فَاسْتَأْنَفَ بِهِمُ الصَّلاةَ، وَجَاءَ مَرَّةً أُخْرَى، فَلَمَّا وَقَفَ لِيُكَبِّرَ، ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَأَقَامَ بِهِمُ الصَّلاةَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌّ وَلا تَهَاتُرٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے نماز کے لیے اقامت کہی جا چکی تھی۔ صفیں درست ہو چکی تھیں، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوئے اور ہم آپ کے تکبیر کہنے کے منتظر تھے، تو آپ واپس تشریف لے گئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو پھر آپ گھر میں تشریف لے گئے کچھ دیر وہیں ٹھہرے رہے، پھر آپ ہمارے پاس تشریف لائے، تو آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ آپ نے غسل کیا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ دونوں فعل دو مختلف مواقع پر سرانجام پائے تھے۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تھے۔ آپ نے تکبیر کہہ دی تھی۔ پھر آپ کو یہ یاد آیا کہ آپ جنابت کی حالت میں ہیں۔ پھر آپ باہر چلے گئے پھر آپ نے غسل کیا۔ پھر آپ تشریف لائے۔ اور آپ نے نئے سرے سے ان کو نماز پڑھائی۔ جبکہ دوسری مرتبہ آپ تشریف لائے۔ جب آپ تکبیر کہنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ تو آپ کو یہ بات یاد آئی کہ آپ جنابت کی حالت میں ہیں یہ آپ کو تکبیر کہنے سے پہلے یاد آیا تھا آپ تشریف لے گئے تھے۔ آپ نے غسل کیا۔ پھر آپ واپس تشریف لائے۔ اور آپ نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اس صورت میں ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد اور کوئی اختلاف باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2236]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2233»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (229): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، أبو خيثمة: اسمه زهير بن حرب، وصالح: هو ابن كيسان.