🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

749. باب الحدث في الصلاة - ذكر الأمر لمن أحدث في صلاته متعمدا أو ساهيا بإعادة الوضوء واستقبال الصلاة ضد قول من أمر بالبناء عليه
نماز میں حدث کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص اپنی نماز میں جان بوجھ کر یا بھول کر حدث کرے، اسے وضو دوبارہ کرنا اور نماز دوبارہ شروع کرنا چاہیے، اس کے برخلاف جو اسے جاری رکھنے کا حکم دیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2237
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاةِ، فَلْيَنْصَرِفْ، ثُمَّ لِيَتَوَضَّأْ، وَلْيُعِدْ صَلاتَهُ" . " وَلا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ" ، لَمْ يَقُلْ:" وَلْيُعِدْ صَلاتَهُ" إِلا جَرِيرٌ، قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْبِنَاءَ عَلَى الصَّلاةِ لِلْمُحْدِثِ غَيْرُ جَائِزٍ.
سیدنا علی بن طلق حنفی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب کسی شخص کی نماز کے دوران ہوا خارج ہو جائے، تو وہ واپس جائے پھر وضو کرے اور دوبارہ نماز ادا کرے اور تم خواتین کے ساتھ ان کی پچھلی شرم گاہ میں صحبت نہ کرو۔ راوی نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے کہ پھر وہ اپنی نماز کو دہرائے صرف جلیل نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ یہ بات امام ابوحاتم نے بیان کی ہے۔ اور اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ بے وضو ہونے والے شخص کے لیے نماز پر بناء قائم کرنا جائز نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2237]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2234»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «ضعيف أبي داود» (27)، وسيأتي (4187 و 4189)، دون قوله: «وليعد الصلاة»؛ وهو أقرب، يشهد له ما بعده. تنبيه!! رقم (4187) = (4199) من «طبعة المؤسسة». رقم (4189) = (4201) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف، مسلم بن سلام لم يرو عنه غير عيسى بن حطان، ولم يوثقه غير المؤلف، وباقي رجاله ثقات، وهو في «ثقات المؤلف» 3/ 262 - 263 بإسناده ومتنه، وقال ابن القطان فيما نقله عنه صاحب «نصب الراية» 2/ 62: وهذا حديث لا يصح، فإن مسلم بن سلام الحنفي أبا عبد الملك مجهول الحال.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں