صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
753. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر العلة التي من أجلها لم يذكر صلى الله عليه وسلم تلك الآية
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کا ذکر نہیں کیا
حدیث نمبر: 2241
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ شَيْخٌ لَهُ قَدِيمٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُسَوَّرِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الصَّلاةِ، فَتَعَايَى فِي آيَةٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تَرَكْتَ آيَةً، قَالَ:" فَهَلا أَذْكَرْتُمُونِيهَا؟"، قَالَ: ظَنَنْتُ أَنَّهَا قَدْ نُسِخَتْ، قَالَ:" فَإِنَّهَا لَمْ تُنْسَخْ" .
سیدنا مسور بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا جب آپ نے نماز کے دوران قرأت کرتے ہوئے ایک آیت کو چھوڑ دیا (نماز کے بعد) ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ نے ایک آیت کو چھوڑ دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے یاد کیوں نہیں کروایا۔ اس نے عرض کی: میں نے یہ گمان کیا، شاید یہ منسوخ ہو گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ منسوخ نہیں ہوئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2241]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2238»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
هو مكرر ما قبله.