صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
754. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الخبر المصرح بمعنى ما أشرنا إليه
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے اشارہ کردہ معنی کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 2242
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرِ بْنِ مُعَاذٍ الْبَزَّازُ ، بِنَسَا، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ زَبْرٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلاةً، فَالْتُبِسَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ لأَبِي: " أَشَهِدْتَ مَعَنَا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَفْتَحَهَا عَلَيَّ؟" .
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز ادا کر رہے تھے۔ اس دوران آپ کو شبہ لاحق ہوا جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ نے میرے والد سے فرمایا کیا تم ہمارے ساتھ (نماز میں) شریک تھے۔ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم نے مجھے لقمہ کیوں نہیں دیا؟ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2242]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2239»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (843).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات.
حدیث نمبر: 2243
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، يَعْنِي فِي الصَّلاةِ، فَلَمَّا أَنْ جِئْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، سَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ، فَجَلَسْتُ حَتَّى قَضَى الصَّلاةَ، قُلْتُ لَهُ: إِنَّكَ كُنْتَ تَرُدُّ عَلَيْنَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ، وَقَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ قَضَاءً أَنْ لا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلاةِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم لوگ (نماز کے دوران) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے، تو آپ ہمیں سلام کا جواب دیا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: یعنی نماز کے دوران ایسا ہوتا تھا، پھر جب ہم حبشہ کی سرزمین سے (مدینہ منورہ) آئے، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (آپ کے نماز پڑھنے کے دوران) سلام کیا، تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا۔ مجھے طرح طرح کے اندیشے آنے لگے۔ میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: پہلے، تو آپ ہمیں سلام کا جواب دے دیتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ جو چاہے نیا فیصلہ دے سکتا ہے اور اس نے اس بارے میں نیا فیصلہ یہ دیا ہے، تم لوگ نماز کے دوران کلام نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2243]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2240»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (2870) «صحيح أبي داود» (857).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن من أجل عاصم وهو ابن أبي النجود.
حدیث نمبر: 2244
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ، أَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلامَ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ، فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَلَّمْتُ عَلَيْكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ السَّلامَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَقَدْ أَحْدَثَ أَنْ لا نَتَكَلَّمَ فِي الصَّلاةِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے۔ اس وقت جب آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، تو آپ ہمیں سلام کا جواب دے دیا کرتے تھے یہ ہمارے حبشہ کی سرزمین سے (مدینہ منورہ) آنے سے پہلے کی بات ہے۔ جب ہم نجاشی کی طرف سے واپس آئے، تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا۔ مجھے طرح طرح کے اندیشے آنے لگے۔ میں آپ کے انتظار میں بیٹھ گیا جب آپ نے نماز مکمل کی تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میں نے آپ کو سلام کیا تھا۔ آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے لیکن آپ نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا۔ (ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں) پہلے آپ سلام کا جواب دیا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ جو چاہے نیا فیصلہ دے سکتا ہے اور اس نے نیا حکم یہ دیا ہے، ہم نماز کے دوران کلام نہیں کریں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2244]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2241»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - انظر ما قبله. * [وَفِي رِوَايَة: إِنَّكَ كُنتَ تَرُدُّ عَلَيْنَا] قال الناشر: سقطت من «طبعة المؤسسة»، واستدركها الشيخ بخطه. تنبيه!! ما بين المعقوفين زيادة من «طبعة باوزير» - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، وانظر ما قبله.