🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

755. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أن نسخ الكلام في الصلاة كان ذلك بالمدينة لا بمكة
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت سے ناواقف کو یہ وہم دلاتا ہے کہ نماز میں بات چیت کا منسوخ ہونا مدینہ میں تھا، مکہ میں نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2245
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: كُنَّا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا صَاحِبَهُ فِي الصَّلاةِ فِي حَاجَتِهِ، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238،" فَأُمِرْنَا حِينَئِذٍ بِالسُّكُوتِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ: كُنَّا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا صَاحِبَهُ فِي الصَّلاةِ، قَدْ تُوهِمُ عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّ نَسْخَ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ كَانَ بِالْمَدِينَةِ، لأَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ مِنَ الأَنْصَارِ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، لأَنَّ نَسْخَ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ كَانَ بِمَكَّةَ عِنْدَ رُجُوعِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَصْحَابِهِ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَلِخَبَرِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ مَعْنَيَانِ: أَحَدُهُمَا: أَنَّهُ الْمُحْتَمِلُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ حَكَى إِسْلامَ الأَنْصَارِ قَبْلَ قُدُومِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، حَيْثُ كَانَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ يُعَلِّمُهُمُ الْقُرْآنَ، وَأَحْكَامَ الدِّينِ، وَحِينَئِذٍ كَانَ الْكَلامُ مُبَاحًا فِي الصَّلاةِ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ سَوَاءٌ، فَكَانَ بِالْمَدِينَةِ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الأَنْصَارِ قَبْلَ قُدُومِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ يُكَلِّمُ أَحَدُهُمْ صَاحِبَهُ فِي الصَّلاةِ قَبْلَ نَسْخِ الْكَلامِ فِيهَا، فَحَكَى زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ صَلاتَهُمْ فِي تِلْكَ الأَيَّامِ، لا أَنَّ نَسْخَ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ كَانَ بِالْمَدِينَةِ، وَالْمَعْنَى الثَّانِي: أَنَّهُ أَرَادَ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ الأَنْصَارَ وَغَيْرَهُمُ الَّذِينَ كَانُوا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ قَبْلَ نَسْخِ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ عَلَى مَا يَقُولُ الْقَائِلُ فِي لُغَتِهِ، فَقُلْنَا: كَذَا، يُرِيدُ بِهِ بَعْضَ الْقَوْمِ الَّذِينَ فَعَلُوا لا الْكُلَّ.
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں پہلے ہم میں سے کوئی ایک شخص نماز کے دوران اپنے ساتھی کے ساتھ اپنی کسی ضرورت کے بارے میں بات چیت کر لیتا تھا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: نمازوں کی اور بالخصوص درمیانی نماز کی حفاظت کرو اور اللہ کی بارگاہ میں فرمانبرداری کے ساتھ کھڑے رہو۔ تو ہمیں (نماز کے دوران) خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے منقول یہ الفاظ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں یوں ہوتے تھے کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص نماز کے دوران اپنے ساتھی سے بات چیت کر لیتا تھا، اس نے ایک عالم کو اس غلط فہمی کا شکار کیا کہ نماز کے دوران کلام کے منسوخ ہونے کا واقعہ مدینہ منورہ میں پیش آیا تھا۔ کیونکہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ انصار سے تعلق رکھتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے نماز کے دوران بات چیت کے منسوخ ہونے کا واقعہ مکہ میں پیش آیا تھا اس وقت جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی حبشہ سے واپس آئے تھے۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے منقول روایت کہ دو مفہوم ہو سکتے ہیں ایک یہ ہو سکتا ہے کہ اس میں اس بات کا احتمال موجود ہو کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے پہلے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے اسلام کا ذکر کیا ہو۔ جب سیدنا معصب بن عمیر رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو قرآن اور دینی احکام کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ اس وقت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دونوں جگہوں پر نماز کے دوران بات چیت کرنا مباح تھی۔ تو اس وقت مدینہ منورہ میں کچھ انصار اسلام قبول کر چکے تھے۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے پہلے کی بات ہے اس وقت ان میں سے کوئی ایک شخص اپنے ساتھی کے ساتھ نماز کے دوران بات چیت کر لیتا تھا۔ یہ نماز کے دوران بات چیت کے منسوخ ہونے سے پہلے کی بات ہے تو سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان ایام کے دوران ان لوگوں کی نماز کا واقعہ ذکر کیا۔ اس سے یہ مراد نہ ہو کہ نماز کے دوران کلام کرنے کے منسوخ ہونے کا واقعہ مدینہ منورہ میں پیش آیا تھا۔ اس کا دوسرا احتمال یہ ہو سکتا ہے کہ ان الفاظ کے ذریعے ان کی مراد انصار اور دیگر حضرات ہوں۔ جو نماز کے دوران کلام منسوخ ہونے سے پہلے اس طرح کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ کوئی شخص اپنی زبان میں یہ کہتا ہے کہ تو ہم نے یہ کیا حالانکہ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ بعض لوگوں نے ایسا کیا تھا۔ سب لوگوں نے ایسا نہیں کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2245]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2242»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (875): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، أبو عمرو الشيباني: اسمه سعد بن إياس، وعبد الله: هو ابن المبارك.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں