صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
891. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن صلاة المصطفى صلى الله عليه وسلم بمنى كانت السترة قدامه حيث كان الأتان ترتع قدام المصطفى صلى الله عليه وسلم
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی منیٰ میں نماز کے وقت ان کے سامنے سترہ تھا جب گدھیاں ان کے سامنے چر رہی تھیں
حدیث نمبر: 2394
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ"، قَالَ: فَخَرَجَ بِلالٌ بِوَضُوئِهِ، فَبَيْنَ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ، قَالَ: " فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ"، قَالَ:" فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلالٌ، فَجَعَلَ يَتْبَعُ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا، يَقُولُ يَمِينًا وَشِمَالا: حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، ثُمَّ رُكِزَتْ لَهُ عَنَزَةٌ، فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ لا يَمْنَعُ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ" .
عون بن ابوجحیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اس وقت ”ابطح“ میں، وہاں چمڑے کے بنے سرخ خیمے میں موجود تھے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ باہر آئے، تو لوگوں نے اس پانی کو حاصل کرنا شروع کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، تو آپ نے سرخ حلہ پہنا ہوا تھا۔ آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی کا منظر گویا، آج بھی میری نگاہ میں ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور اذان دیتے ہوئے اپنے منہ کو اس طرف اور اس طرف، یعنی دائیں طرف اور بائیں طرف پھیرا، یعنی «حی علی الصلاۃ» اور «حی علی الفلاح» کہتے ہوئے ایسا کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نیزہ گاڑھ دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے عصر کی نماز کی دو رکعات پڑھائیں۔ آپ کے سامنے سے (نیزے کی دوسری جانب سے) گدھے اور کتے گزرتے رہے۔ انہیں روکا نہیں گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس آنے تک مسلسل دو رکعات (یعنی قصر) نماز ادا کرتے رہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2394]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2387»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (1265). تنبيه!! رقم (1265) = (1268) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما سفيان: هو الثوري.