صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
892. باب إعادة الصلاة
نماز دوبارہ ادا کرنے کا بیان -
حدیث نمبر: 2395
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ مِنْ مِنًى، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ إِذَا رَجُلانِ فِي آخِرِ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا، فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ:" مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟" قَالا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، قَالَ:" فَلا تَفْعَلا، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا، ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ، فَإِنَّهَا لَكُمْ نَافِلَةٌ" .
جابر بن یزید عامری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں شریک ہوا تھا۔ میں نے ”منی“ میں مسجد خیف میں صبح کی نماز آپ کی اقتداء میں ادا کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو لوگوں کے پیچھے دو ایسے افراد موجود تھے، جنہوں نے نماز ادا نہیں کی تھی۔ ان دونوں کو لایا گیا تو وہ کانپ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم نے ہمارے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی۔ انہوں نے عرض کی: ہم اپنی رہائشی جگہ پر پہلے ہی نماز ادا کر چکے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو جب تم اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر چکے ہو اور پھر تم باجماعت نماز والی مسجد میں آؤ تو ان لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کرو یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2395]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2388»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (590 - 591).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، وقد تقدم برقم (1565).
حدیث نمبر: 2396
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ،، أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ جَالِسًا بِالْبَلاطِ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ، فَقُلْتُ: مَا يُجْلِسُكَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ؟ قَالَ: إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ،" وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نُعِيدَ صَلاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ فِي نَفْسِهِ ثِقَةٌ يُحْتَجُّ بِخَبَرِهِ إِذَا رَوَى عَنْ غَيْرِ أَبِيهِ، فَأَمَّا رِوَايَتُهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فَلا تَخْلُو مِنِ انْقِطَاعٍ وَإِرْسَالٍ فِيهِ، فَلِذَلِكَ لَمْ نَحْتَجَّ بِشَيْءٍ مِنْهُ.
سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بلاط میں بیٹھے ہوئے دیکھا لوگ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے۔ میں نے دریافت کیا: آپ کیوں بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ لوگ نماز ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: میں نماز ادا کر چکا ہوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے، ہم ایک ہی دن میں کوئی نماز دو مرتبہ ادا کریں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمرو بن شعیب نامی بذات خود ثقہ ہے اس کی نقل کردہ روایات سے استدلال کیا جائے گا۔ جب وہ اپنے والد کی بجائے کسی اور کے حوالے سے روایت نقل کرے۔ جہاں تک اس کی ان روایات کا تعلق ہے جو اس نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے نقل کی ہیں تو ان میں انقطاع اور ارسال پایا جاتا ہے اسی وجہ سے ہم ایسی کسی روایت سے استدلال نہیں کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2396]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2389»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (592).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، عمرو بن شعيب، قال ابن معين: إذا حدث عن سعيد بن المسيب أو سليمان بن يسار أو عروة فهو ثقة، وكذا قال المصنف بإثر هذاالحديث، وباقي رجاله ثقات على شرطهما.