🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ
باب: پاخانہ میں جاتے وقت آدمی کیا کہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، قَالَ: عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ، وَقَالَ: عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ جاتے (حماد کی روایت میں ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم «اللهم إني أعوذ بك» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہتے، اور عبدالوارث کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «أعوذ بالله من الخبث والخبائث» میں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں (کے شر) سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 4]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے تو درج ذیل دعا پڑھتے۔ حماد بن زید کے الفاظ ہیں «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» اور عبدالوارث کے الفاظ ہیں «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» اے اللہ! میں خبیث جنوں اور جنیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شعبہ، عبدالعزیز سے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ...» کے الفاظ منقول ہیں جب کہ انہوں نے ایک بار «أَعُوذُ بِاللَّهِ...» کے الفاظ بھی بیان کیے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہیب سے «فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ» اسے اللہ کی پناہ لینی چاہیے۔ کے الفاظ منقول ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 4]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحیض 32 (375)، سنن الترمذی/الطھارة 4 (6)، (تحفة الأشراف: 1012، 1048)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 9 (142)، الدعوات 15 (6322)، سنن النسائی/الطھارة 18 (19)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 9 (296)، مسند احمد (3/101، 282)، سنن الدارمی/الطھارة 10 (696) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (142) صحيح مسلم (375)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي السَّدُوسِيَّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ، وَقَالَ شُعْبَةُ: وَقَالَ مَرَّةً: أَعُوذُ بِاللَّهِ، وقَالَ وُهَيْبٌ: عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللهِ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں «اللهم إني أعوذ بك» ہے، یعنی اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں۔‏‏‏‏ شعبہ کا بیان ہے کہ عبدالعزیز نے ایک بار «أعوذ بالله» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کی بھی روایت کی ہے، اور وہیب نے عبدالعزیز بن صہیب سے جو روایت کی ہے اس میں «فليتعوذ بالله» چاہیئے کہ اللہ سے پناہ مانگے کے الفاظ ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 5]
شعبہ، عبدالعزیز یعنی ابن صہیب سے، وہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہی (مذکورہ بالا) حدیث نقل کرتے ہیں، ان کے الفاظ یہ ہیں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ ....» ‏‏‏‏ اور شعبہ کہتے ہیں کہ عبدالعزیز نے (سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے) ایک بار «أَعُوذُ بِاللَّهِ ....» ‏‏‏‏ کے الفاظ بیان کیے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 5]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 9 (142)، الدعوات 15 (6322)، سنن الترمذی/الطہارة 4 (5)، (تحفة الأشراف: 1022)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/282) (شاذ)» ‏‏‏‏ (یعنی وہیب کی قولی روایت شاذ ہے، باقی صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ، فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ، فَلْيَقُلْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کی یہ جگہیں جن اور شیطان کے موجود رہنے کی جگہیں ہیں، جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جائے تو یہ دعا پڑھے «أعوذ بالله من الخبث والخبائث» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں سے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 6]
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بیت الخلاء جنوں اور شیطانوں کے آنے جانے کی جگہیں ہیں، لہٰذا تم میں سے جب کوئی بیت الخلاء جانا چاہے تو یہ کلمات کہہ لیا کرے: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» میں خبیث جنوں اور جنیوں (کے شر) سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 6]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الطھارة 9 (296)، سنن النسائی/الیوم واللیلة (75، 76)، (تحفة الأشراف: 3685)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/369، 373) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (357)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں