سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب الاِسْتِتَارِ فِي الْخَلاَءِ
باب: قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 35
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنِ الْحُصَيْنِ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ مَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ أَكَلَ فَمَا تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ، وَمَا لَاكَ بِلِسَانِهِ فَلْيَبْتَلِعْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَسْتَدْبِرْهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرٍ، قَالَ حُصَيْنٌ الْحِمْيَرِيُّ: وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ ثَوْرٍ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخَيْر، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو سَعِيدٍ الْخَيْر هُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سرمہ لگائے تو طاق لگائے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو اس میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں، جو شخص (استنجاء کے لیے) پتھر یا ڈھیلا لے تو طاق لے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص کھانا کھائے تو خلال کرنے سے جو کچھ نکلے اسے پھینک دے، اور جسے زبان سے نکالے اسے نگل جائے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، جو شخص قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے جائے تو پردہ کرے، اگر پردہ کے لیے کوئی چیز نہ پائے تو بالو یا ریت کا ایک ڈھیر لگا کر اس کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ جائے کیونکہ شیطان آدمی کی شرمگاہ سے کھیلتا ہے ۱؎، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی مضائقہ نہیں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوعاصم نے ثور سے روایت کی ہے، اس میں (حصین حبرانی کی جگہ) حصین حمیری ہے، اور عبدالملک بن صباح نے بھی اسے ثور سے روایت کیا ہے، اس میں (ابوسعید کی جگہ) ابوسعید الخیر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوسعید الخیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 35]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سرمہ لگائے تو طاق سلائیاں لگائے، جس نے ایسا کیا تو بہتر کیا اور جس نے نہ کیا اس پر کوئی حرج نہیں اور جو استنجا کرنے میں ڈھیلے استعمال کرے، اسے چاہیے کہ طاق عدد لے، جس نے ایسا کیا تو بہتر کیا اور جس نے نہ کیا اس پر کوئی حرج نہیں اور جس نے کچھ کھایا اور پھر تنکے سے خلال کیا تو چاہیے کہ منہ کے ریزوں کو پھینک دے اور جو کچھ اپنی زبان سے صاف کرے تو وہ نگل لے، جس نے ایسا کیا تو خوب کیا اور جس نے نہ کیا اس پر کوئی حرج نہیں اور جو پاخانے کو آئے تو چاہیے کہ کوئی آڑ لے لے، اگر کچھ نہ پائے تو ریت کی ڈھیری ہی بنا لے اور اس کی طرف پشت کر لے، بلاشبہ شیطان بنی آدم کے سرینوں کے ساتھ کھیلتا ہے، جس نے ایسا کیا بہت اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو اس پر کوئی حرج نہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس حدیث کو ابوعاصم نے ثور سے روایت کیا تو راوی کا نام حصین حمیری بتایا (نہ کہ حبرانی) اور عبدالملک بن صباح نے روایت کیا تو کہا ابوسعید الخیر (نہ کہ صرف ابوسعید)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”ابوسعید الخیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 35]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطھارة 23 (338)، الطب 6 (3498)، (تحفة الأشراف: 14938)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضو 26 (162)، صحیح مسلم/الطہارة 8 (237) سنن النسائی/الطھارة 72 (88)، موطا امام مالک/الطھارة 1(2)، مسند احمد (2/236، 237، 308، 401، 371)، سنن الدارمی/الطھارة 5 (689) (ضعیف)» (حصین اور ابوسعید الخیر الحبرانی مجہول راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: شیطان کے کھیلنے سے یہ مقصود ہے کہ اگر آڑ نہ ہو گی تو پیچھے سے آ کر کوئی جانور اسے ایذا پہنچا دے گا، یا بے پردگی کی حالت میں دیکھ کر کوئی آدمی آ کر اس کا ٹھٹھا و مذاق اڑائے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف،ابن ماجه (337،3498)
حصين مجھول كما في تقريب التھذيب (1393)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 15
إسناده ضعيف،ابن ماجه (337،3498)
حصين مجھول كما في تقريب التھذيب (1393)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 15