صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1316. باب صلاة الكسوف - ذكر البيان بأن الصلاة عند كسوف الشمس والقمر إنما أمر بها إلى أن تنجلي
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ سورج یا چاند گرہن کے وقت نماز اس وقت تک جاری رکھنے کا حکم ہے جب تک وہ صاف نہ ہو جائے
حدیث نمبر: 2833
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَابِدُ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ، قَالَ: خَبَّرَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا، حَتَّى تَنْجَلِيَ، أَوْ يُحَدِّثَ اللَّهُ أَمْرًا" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے جب تم ان میں سے کسی کو (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو نماز ادا کرو یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائے یااللہ تعالیٰ کوئی نیا فیصلہ دیدے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2833]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2822»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «جزء صلاة الكسوف»: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم