🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1315. باب صلاة الكسوف - ذكر كيفية هذا النوع من صلاة الكسوف
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس قسم کی صلاة الكسوف کی کیفیت کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2832
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا، ثُمَّ رَفَعَ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلا، دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَفَعَ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ، فَاذْكُرُوا اللَّهَ" . فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ، قَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ، أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَرَأَيْتُ النَّارَ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ" قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بِكُفْرِهِنَّ" قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ قَالَ:" يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنْوَاعُ صَلاةِ الْكُسُوفِ سَنَذْكُرُهَا فِيمَا بَعْدُ بِالتَّفْصِيلِ فِي الْقِسْمِ الْخَامِسِ فِي نَوْعِ الأَفْعَالِ الَّتِي هِيَ مِنِ اخْتِلافِ الْمُبَاحِ إِنَّ شَاءَ اللَّهُ ذَلِكَ وَيَسَّرَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی لوگوں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا جو تقریباً سورہ بقرہ کی تلاوت جتنا تھا، پھر آپ رکوع میں گئے۔ آپ نے طویل رکوع کیا، پھر آپ نے سر اٹھایا اور آپ نے طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، پھر آپ نے طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ نے طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ سجدے میں چلے گئے پھر آپ نے نماز ختم کی تو سورج روشن ہو چکا تھا آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک سورج اور چانداللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے جب تم انہیں (گرہن کی حالت) میں دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو دیکھا، آپ اپنی جگہ سے کوئی چیز پکڑنے کے لیے بڑھے تھے، پھر ہم نے آپ کو دیکھا، آپ پیچھے ہٹے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے جنت کو دیکھا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) مجھے جنت دکھائی گئی تو میں اس میں سے انگوروں کا ایک گچھا حاصل کرنے لگا اگر میں اسے لے لیتا تو تم رہتی دنیا تک اسے کھاتے رہتے اور میں نے جہنم کو دیکھا میں نے آج کی طرح کا (ہیبت ناک) منظر کبھی نہیں دیکھا میں نے دیکھا، جہنم میں اکثریت خواتین کی ہے لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی وجہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی وجہ ان کا کفر ہے عرض کی گئی: کیا وہ اللہ کا انکار کرتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان کا انکار کرتی ہیں اگر تم ان میں سے کسی ایک کے ساتھ ایک زمانے تک بھلائی کرتے رہو اور پھر اسے تمہاری طرف سے ناگوار صورتحال دیکھنی پڑے تو وہ یہی کہتی ہے۔ اللہ کی قسم! میں نے تمہاری طرف سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نماز کسوف کے مختلف قسموں کا تعلق ہم عنقریب تفصیل کے ساتھ پانچویں قسم میں افعال سے تعلق رکھنے والی نوع میں کریں گے جو افعال مباح اختلاف کی قسم سے تعلق رکھتے ہیں، اگر اللہ نے چاہا اور یہ آسان کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2832]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2821»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «جزء الكسوف»، «صحيح أبي داود» (1075): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناد صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں