صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1366. باب صلاة الخوف - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به قتادة عن سليمان اليشكري
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف قتادہ نے سلیمان یشکری سے روایت کی
حدیث نمبر: 2883
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُحَارِبَ خَصَفَةَ بِنَخْلٍ، فَرَأَوْا مِنَ الْمُسْلِمِينَ غُرَّةً، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ، يُقَالُ لَهُ: عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ، أَوْ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ، حَتَّى قَامَ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالسَّيْفِ، فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ:" اللَّهُ"، قَالَ: فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّيْفَ، فَقَالَ لَهُ:" مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي"، قَالَ: كُنَّ خَيْرًا مِنِّي، قَالَ:" تَشَهَّدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ؟" قَالَ: لا، وَلَكِنْ أُعَاهِدُكَ عَلَى أَنْ لا أُقَاتِلَكَ وَلا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ، قَالَ: فَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَجَاءَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، شَكَّ أَبُو عَوَانَةَ، أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِصَلاةِ الْخَوْفِ قَالَ: فَكَانَ النَّاسُ طَائِفَتَيْنِ: طَائِفَةً بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، وَطَائِفَةً يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا، فَكَانُوا مَكَانَ أُولَئِكَ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّوْا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَكْعَتَيْنِ، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نخل کے مقام پر موجود ”محراب خصفہ“ میں لڑائی کی ان لوگوں نے مسلمانوں کو غافل کو دیکھا تو ان کا ایک شخص آیا جس کا نام عوف بن حارث یا شاید غورث بن حارث تھا وہ تلوار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے آ کر کھڑا ہو گیا، اور دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے کون بچائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ۔ راوی کہتے ہیں: اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار کو پکڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہیں مجھ سے کون بچائے گا اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بہتر ہو جائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہواللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اس نے کہا: جی نہیں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ عہد کرتا ہوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ نہیں کروں گا اور نہ ہی اس قوم کے ساتھ رہوں گا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کرے گی۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور بولا: میں سب سے بہتر شخص سے تمہارے پاس آیا ہوں جب ظہر یا شاید عصر کا وقت ہوا، یہ شک ابوعوانہ نامی راوی کو ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف کا حکم دیا راوی بیان کرتے ہیں: لوگوں کے دو گروہ بن گئے ایک گروہ دشمن کے مدمقابل ہو گیا، اور ایک گروہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنے لگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والے گروہ کو دو رکعات پڑھائیں، پھر ان لوگوں نے نماز ختم کر دی اور وہ ان لوگوں کی جگہ پر آ گئے اور وہ لوگ آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرنے لگے۔ انہوں نے دو رکعات ادا کیں یوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعات ہوئیں اور ان لوگوں کی دو رکعات ہوئیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2883]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2872»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات إلا أنه منقطع