🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1365. باب صلاة الخوف - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به الحسن عن أبي بكرة
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف حسن نے ابو بکرہ سے روایت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2882
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِقْصَارِ الصَّلاةِ فِي الْخَوْفِ، أَيْنَ أُنْزِلَ وَأَيْنَ هُوَ؟ فَقَالَ: خَرَجْنَا نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ أَتَتْ مِنَ الشَّامِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِنَخْلٍ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَيْفُهُ مَوْضُوعٌ، فَقَالَ: أَنْتَ مُحَمَّدٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: أَمَا تَخَافُنِي؟ قَالَ:" لا"، قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ:" اللَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْكَ"، قَالَ: فَسَلَّ سَيْفَهُ، وَتَهَدَّدَهُ الْقَوْمُ وَأَوْعَدُوهُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، النَّاسَ بِالرَّحِيلِ وَبِأَخْذِ السِّلاحِ، ثُمَّ نَادَى بِالصَّلاةِ، فَصَلَّتْ طَائِفَةٌ خَلْفَهُ، وَطَائِفَةٌ تَحْرُسُ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّائِفَةِ الَّتِي مَعَهُ رَكْعَتَيْنِ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى، فَقَامَتْ فِي مَصَافِّ الَّذِينَ صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَرَسَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمْ مُقْبِلُونَ عَلَى الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَكْعَتَيْنِ، فَصَارَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَلأَصْحَابِهِ رَكْعَتَيْنِ .
سلیمان یشکری کے بارے میں منقول ہے انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خوف کے عالم میں نماز مختصر ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا: اس کا حکم کہاں نازل ہوا تھا اور یہ صورت حال کہاں درپیش آئی تھی، تو انہوں نے بتایا: ہم لوگ قریش کے ایک قافلے کا پیچھا کرتے ہوئے نکلے جو شام جا رہا تھا جب ہم نخل کے مقام پر پہنچے، تو ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے تلوار رکھی ہوئی تھی اس نے کہا: کیا آپ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ڈرتے نہیں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں اس نے دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے کون بچائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بچائے گا۔ راوی کہتے ہیں: اس شخص نے اپنی تلوار کھینچ لی لوگوں نے اسے ڈانٹا اور اسے جھڑکا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو وہاں سے روانگی کا اور اسلحہ اختیار کرنے کا حکم دیا، پھر نماز کے لیے اذان دی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے موجود گروہ کو نماز پڑھائی اور ایک گروہ دشمن کی طرف رخ کر کے حفاظت کرتا رہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والے گروہ کو دو رکعات پڑھائیں پھر دوسرا گروہ آ کر اس جگہ کھڑا ہو گیا، جہاں وہ لوگ کھڑے تھے، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز ادا کی تھی وہ دشمن کی طرف رخ کر کے حفاظت کے فرائض سر انجام دینے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بھی دو رکعات پڑھائیں، تو یوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعات ہو گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے دو رکعات ادا کیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2882]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2871»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1164).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح رجاله رجال الشيخين غير سليمان وهو ابن قيس اليشكري لم يخرجا له وهو ثقة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں