🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1370. باب صلاة الخوف - ذكر النوع التاسع من صلاة الخوف
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - صلاة الخوف کے نویں نوع کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2888
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ أَبُو سَعْدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاةِ الْخَوْفِ قَالَ: " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَائِفَةٌ مِنْ خَلْفِهِ، وَطَائِفَةٌ مِنْ وَرَاءِ الَّتِي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُعُودٌ وَوُجُوهُهُمْ كُلُّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَتَانِ، فَرَكَعَ وَرَكَعَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي خَلْفَهُ وَالأُخْرَى قُعُودٌ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا أَيْضًا وَالآخَرُونَ قُعُودٌ، ثُمَّ قَامَ فَقَامُوا وَنَكَصُوا خَلْفَهُمْ حَتَّى كَانُوا مَكَانَ أَصْحَابِهِمْ قُعُودًا، وَأَتَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ وَالآخَرُونَ قُعُودٌ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَتِ الطَّائِفَتَانِ كِلْتَاهُمَا، فَصَلُّوا لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذِهِ الأَخْبَارُ لَيْسَ بَيْنَهُمَا تَضَادٌ وَلا تَهَاتُرٌ، وَلَكِنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى صَلاةَ الْخَوْفِ مِرَارًا فِي أَحْوَالٍ مُخْتَلِفَةٍ بِأَنْوَاعٍ مُتَبَايِنَةٍ عَلَى حَسَبِ مَا ذَكَرْنَاهَا، أَرَادَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ تَعْلِيمِ أُمَّتِهِ صَلاةَ الْخَوْفِ، أَنَّهُ مُبَاحٌ لَهُمْ أَنْ يُصَلُّوا أَيَّ نَوْعٍ مِنَ الأَنْوَاعِ التِّسْعَةِ الَّتِي صَلاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَوْفِ عَلَى حَسَبِ الْحَاجَةِ إِلَيْهَا، وَالْمَرْءُ مُبَاحُ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ مَا شَاءَ عِنْدَ الْخَوْفِ مِنْ هَذِهِ الأَنْوَاعِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا، إِذْ هِيَ مِنَ اخْتِلافِ الْمُبَاحِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهَا تَضَادٌ أَوْ تَهَاتُرٌ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نماز خوف کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ایک گروہ آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور ایک گروہ ان کے پیچھے کھڑا ہو گیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے تھے وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان سب کے چہرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھے۔ آپ نے تکبیر کہی۔ ان دونوں گروہوں نے تکبیر کہی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا۔ آپ کے پیچھے والے گروہ نے بھی رکوع کیا، اور دوسرے لوگ بیٹھے رہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو ان لوگوں نے سجدہ کیا، اور دوسرے لوگ بیٹھے رہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے وہ لوگ بھی کھڑے ہوئے اور وہ پیچھے ہٹتے ہوئے ان لوگوں کی جگہ پر آ گئے جہاں ان کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر دوسرا گروہ آ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بھی ایک رکوع اور دو سجدے پڑھائے اور دوسرے لوگ بیٹھے رہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو دونوں گروہ کھڑے ہوئے انہوں نے انفرادی طور پر ایک رکعت ادا کی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے کئی مرتبہ ادا کی تھی۔ جس کا ذکر ہم نے کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے ارادہ یہ تھا کہ آپ اپنی امت کو نماز خوف کے طریقے کی تعلیم دیں۔ کیونکہ ان کے لیے یہ بات مباح ہے کہ وہ ان نو طریقوں میں سے کسی بھی طریقے کے مطابق نماز ادا کر سکتے ہیں۔ جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کے عالم میں نماز ادا کی تھی۔ یعنی صورتحال کے مطابق جو بھی طریقہ مناسب ہو۔ آدمی کے لیے یہ بات مباح ہے۔ کہ وہ خوف کے عالم میں ان طریقوں میں جس طریقے کے مطابق چاہے نماز ادا کرے۔ جن طریقوں کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ یہ مباح اختلاف کی قسم سے تعلق رکھتے ہیں ان روایات میں کوئی تضاد یا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2888]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2877»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
منكر - «ضعيف أبي داود» تحت الحديث (1133).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں