🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

63. باب كَيْفَ الْمَسْحُ
باب: موزوں پر مسح کیسے کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 161
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: ذَكَرَهُ أَبِي، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ"، وقَالَ غَيْرُ مُحَمَّدٍ: عَلَى ظَهْرِ الْخُفَّيْنِ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر مسح کرتے تھے۔ اور محمد بن صباح کے علاوہ دوسرے لوگوں سے «على ظهر الخفين‏.‏» (موزوں کی پشت پر) مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 161]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر مسح کیا کرتے تھے۔ محمد بن صباح کے علاوہ (دوسرے مشائخ) نے کہا کہ آپ نے موزوں کی پشت (یعنی پاؤں کی اوپر والی جانب) پر مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 161]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 149، سنن الترمذی/الطہارة 73 (98)، (تحفة الأشراف: 11512) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (522)
قال الذهبي في عبدالرحمٰن بن ابي الزناد: ’’حديثه من قبيل الحسن‘‘ (سير اعلام النبلاء: 8/ 168، 169)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 162
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ، لَكَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلَى بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلَاهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِ خُفَّيْهِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اگر دین (کا معاملہ) رائے اور قیاس پر ہوتا، تو موزے کے نچلے حصے پر مسح کرنا اوپری حصے پر مسح کرنے سے بہتر ہوتا، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 162]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اگر دین رائے اور قیاس پر مبنی ہوتا تو موزوں کا نیچے والا حصہ اوپر والے کی بہ نسبت مسح کا زیادہ مستحق ہوتا، مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے موزوں کے اوپر ہی مسح کیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 162]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10204)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/95، سنن الدارمی/ الطھارة 43 (742) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق السبيعي مدلس (طبقات المدلسين: 91/ 3) وعنعن
وحديث الحميدي (47،بتحقيقي) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 19

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 163
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ إِلَّا أَحَقَّ بِالْغَسْلِ حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَهْرِ خُفَّيْهِ.
اعمش سے یہی حدیث اس سند سے مروی ہے، اس میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں دونوں پیروں کے تلوؤں کو دھونا ہی زیادہ مناسب سمجھتا رہا، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 163]
جناب اعمش اپنی سند سے اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں پاؤں کے نیچے والے حصے ہی کو زیادہ لائق سمجھتا تھا کہ اسے دھویا جائے حتیٰ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے موزوں کے اوپر کے حصے ہی کا مسح کرتے تھے۔ اس حدیث کو وکیع نے اعمش سے اپنی سند سے روایت کیا تو کہا: میں سمجھتا تھا کہ پاؤں کا نیچے والا حصہ ہی اس بات کے زیادہ لائق ہوتا ہے کہ ان کا مسح کیا جائے حتیٰ کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اوپر کی جانب مسح کرتے تھے۔ وکیع نے کہا کہ «قَدَمَيْنِ» سے مراد موزے ہیں۔ اس حدیث کو عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے ویسے ہی روایت کیا ہے جیسے وکیع نے روایت کیا ہے اور اسے ابوالسوداء نے ابن عبد خیر سے، انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا تو کہا کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے وضو کیا تو اپنے قدموں کے اوپر کے حصے کو دھویا اور کہا کہ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کرتے نہ دیکھا ہوتا (تو میں یہی سمجھے رہتا کہ ان کا نیچے والا حصہ ہی دھونے کے لائق ہوتا ہے) اور آخر تک حدیث اسی طرح بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 163]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 10204) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
[162] إسناده ضعيف
أبو إسحاق السبيعي مدلس (طبقات المدلسين: 91/ 3) وعنعن
وحديث الحميدي (47،بتحقيقي) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 19

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 164
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ لَكَانَ بَاطِنُ الْقَدَمَيْنِ أَحَقَّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا، وَقَدْ مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِ خُفَّيْهِ، وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِهِمَا، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي الْخُفَّيْنِ، وَرَوَاهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، كَمَا رَوَاهُ وَكِيعٌ، وَرَوَاهُ أَبُو السَّوْدَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ ظَاهِرَ قَدَمَيْهِ، وَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
اس سند سے بھی اعمش سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر دین (کا معاملہ) قیاس پر ہوتا تو دونوں قدموں کے نچلے حصے کا مسح ان کے اوپری حصے کے مسح سے زیادہ بہتر ہوتا، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کیا ہے۔ اور اسے وکیع نے بھی اعمش سے اسی سند سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں دونوں پیروں کے نچلے حصے کا مسح ان کے اوپری حصے کے مسح سے بہتر جانتا تھا، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا۔ وکیع کا بیان ہے کہ لفظ «قدمين» سے مراد «خفين» ہے، وکیع ہی کی طرح اسے عیسیٰ بن یونس نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے، نیز اسے ابوالسوداء نے ابن عبد خیر سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے علی کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پاؤں کے اوپری حصہ پر مسح کیا ۱؎ اور کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے نہ دیکھا ہوتا، پھر ابوالسوداء نے پوری روایت آخر تک بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 164]
جناب حفص بن غیاث نے اعمش سے یہ روایت بیان کی تو کہا کہ اگر دین رائے اور قیاس پر مبنی ہوتا تو قدموں کے تلوے ان کے اوپر والے حصے کی نسبت مسح کے زیادہ حقدار ہوتے، جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں کی پشت (اوپر والے حصے) پر مسح کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 164]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 10204) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ابوالسوداء کی روایت میں «فغسل ظاهر قدميه» کے الفاظ آئے ہیں، بظاہر یہاں غسل: مسح کے معنی میں ہے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ورواه وكيع عن الأعمش بإسناده
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق السبيعي مدلس (طبقات المدلسين: 91/ 3) وعنعن
وحديث الحميدي (47،بتحقيقي) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 19

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 165
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ مَحْمُودٌ، أَخْبَرَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ:" وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَمَسَحَ أَعْلَى الْخُفَّيْنِ وَأَسْفَلَهُمَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَبَلَغَنِي أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ ثَوْرُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَجَاءٍ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ تبوک میں وضو کرایا، تو آپ نے دونوں موزوں کے اوپر اور ان کے نیچے مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ثور نے یہ حدیث رجاء بن حیوۃ سے نہیں سنی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 165]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سفر تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کروایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس موقع پر) موزوں کے اوپر اور نیچے مسح کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جناب ثور نے یہ حدیث رجاء سے نہیں سنی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 72 (97)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 85 (550)، موطا امام مالک/الطھارة 8 (41)، (تحفة الأشراف: 11537)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة 41 (740) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں انقطاع ہے جس کو مؤلف نے واضح کر دیا ہے، اور دارمی کی روایت میں عموم ہے، «‏‏‏‏اعلی واسفل» ‏‏‏‏ کا ذکر نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (97)،ابن ماجه (550)
رجاء لم يسمع من كاتب المغيرة بن شعبة،انظر سنن الترمذي (97) وثور لم يسمعه من رجاء وجاء تصريحه بالسماع عند الدارقطني (1/ 195 ح 742) والسند إليه ضعيف فالحديث معلول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 19

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں