سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
63. باب كَيْفَ الْمَسْحُ
باب: موزوں پر مسح کیسے کرے؟
حدیث نمبر: 162
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ، لَكَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلَى بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلَاهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِ خُفَّيْهِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ”اگر دین (کا معاملہ) رائے اور قیاس پر ہوتا، تو موزے کے نچلے حصے پر مسح کرنا اوپری حصے پر مسح کرنے سے بہتر ہوتا، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 162]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اگر دین رائے اور قیاس پر مبنی ہوتا تو موزوں کا نیچے والا حصہ اوپر والے کی بہ نسبت مسح کا زیادہ مستحق ہوتا، مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے موزوں کے اوپر ہی مسح کیا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 162]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10204)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/95، سنن الدارمی/ الطھارة 43 (742) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق السبيعي مدلس (طبقات المدلسين: 91/ 3) وعنعن
وحديث الحميدي (47،بتحقيقي) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 19
إسناده ضعيف
أبو إسحاق السبيعي مدلس (طبقات المدلسين: 91/ 3) وعنعن
وحديث الحميدي (47،بتحقيقي) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 19
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
1702
الجامع الكامل حدیث نمبر :
1702
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
162
| يمسح على ظاهر خفيه |
بلوغ المرام |
55
| يمسح على ظاهر خفيه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 162 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 162
فوائد و مسائل:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔ تاہم جو بات اس میں بیان ہوئی ہے وہ صحیح ہے شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے، اسی طرح اگلی دونوں روایتں [163، 164] بھی شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک صحیح ہیں۔
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔ تاہم جو بات اس میں بیان ہوئی ہے وہ صحیح ہے شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے، اسی طرح اگلی دونوں روایتں [163، 164] بھی شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک صحیح ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 162]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 55
احکام دین کی بنیاد وحی الٰہی پر ہے، عقل و رائے پر نہیں
«. . . وعن علي رضي الله عنه انه قال: لو كان الدين بالراي لكان اسفل الخف اولى بالمسح من اعلاه، وقد رايت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يمسح على ظاهر خفيه . . .»
”. . . سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اگر دین کا دارومدار رائے اور عقل پر ہوتا تو موزوں کی نچلی سطح پر مسح اوپر کی بہ نسبت زیادہ قرین قیاس تھا۔ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزے کے بالائی حصہ پر مسح کرتے دیکھا ہے . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 55]
«. . . وعن علي رضي الله عنه انه قال: لو كان الدين بالراي لكان اسفل الخف اولى بالمسح من اعلاه، وقد رايت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يمسح على ظاهر خفيه . . .»
”. . . سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اگر دین کا دارومدار رائے اور عقل پر ہوتا تو موزوں کی نچلی سطح پر مسح اوپر کی بہ نسبت زیادہ قرین قیاس تھا۔ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزے کے بالائی حصہ پر مسح کرتے دیکھا ہے . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 55]
� فوائد و مسائل:
➊ یہ روایت ہمارے محقق کے نزدیک سنداً ضعیف ہے، تاہم جو بات اس میں بیان ہوئی ہے وہ درست ہے۔ علاوہ ازیں دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھئے: [صحيح سنن ابي داود للألباني، حديث: 162]
➋ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ احکام دین کی بنیاد وحی الٰہی پر ہے، عقل و رائے پر نہیں۔ اگر عقل پر اس کا انحصار اور دارومدار ہوتا تو موزوں کی بالائی سطح پر مسح کی بجائے نچلی سطح پر مسح کرنا زیادہ موزوں ہوتا کیونکہ گندگی سے نچلا حصہ آلودہ ہوتا ہے، لہٰذا نص کی موجودگی میں عقل اور رائے پر عمل کرنا درست نہیں۔
➊ یہ روایت ہمارے محقق کے نزدیک سنداً ضعیف ہے، تاہم جو بات اس میں بیان ہوئی ہے وہ درست ہے۔ علاوہ ازیں دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھئے: [صحيح سنن ابي داود للألباني، حديث: 162]
➋ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ احکام دین کی بنیاد وحی الٰہی پر ہے، عقل و رائے پر نہیں۔ اگر عقل پر اس کا انحصار اور دارومدار ہوتا تو موزوں کی بالائی سطح پر مسح کی بجائے نچلی سطح پر مسح کرنا زیادہ موزوں ہوتا کیونکہ گندگی سے نچلا حصہ آلودہ ہوتا ہے، لہٰذا نص کی موجودگی میں عقل اور رائے پر عمل کرنا درست نہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 55]
Sunan Abi Dawud Hadith 162 in Urdu
عبد خير بن يزيد الهمداني ← علي بن أبي طالب الهاشمي