🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. باب فرض الحج - ذكر الأخبار المفسرة لقوله جل وعلا ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا
حج کے فرض ہونے کا بیان - اس آیت کی تفسیر سے متعلق خبروں کا ذکر کہ "اللہ کے لیے لوگوں پر بیت اللہ کا حج فرض ہے جو اس تک راستہ رکھتا ہو"
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3704
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ذَكَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ"، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَكُلُّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: فَسَكَتَّ عَنْهُ حَتَّى أَعَادَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ:" لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ مَا قُمْتُمْ بِهَا، ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ، وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءِ فَاجْتَنِبُوهُ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ، فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ" ، وَذَكَرَ أَنَّ هَذِهِ الآيَةَ الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ نَزَلَتْ فِي ذَلِك يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُم سورة المائدة آية 101 ْ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج کو فرض قرار دیا ہے۔ ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہر سال؟ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ اس شخص نے تین مرتبہ اپنا سوال دہرایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا، تو یہ لازم ہو جاتا اور اگر یہ لازم ہو جاتا، تو تم اسے ادا نہیں کر پاتے جن معاملات کے بارے میں، میں تمہیں بتاتا نہیں ہوں تم ان معاملات میں مجھے رہنے دیا کرو، کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے بکثرت (غیر ضروری) سوالات کرنے اور ان سے اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے جب میں تم لوگوں کو کسی چیز سے منع کروں، تو اس سے اجتناب کرو اور جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہو سکے اس پر عمل کرو۔ انہوں نے یہ بات بھی ذکر کی کہ سورۃ مائدہ میں موجودہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی تھی۔ اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت نہ کرو کہ اگر انہیں تمہارے سامنے ظاہر کر دیا جائے، تو تمہیں برا لگے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3704]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3696»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (980): م، خ، وفيه: «ذروني ... ».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں