🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

59. باب فضل المدينة - ذكر الزجر عن الاصطياد بين لابتي المدينة إذ الله جل وعلا حرمها على لسان رسوله صلى الله عليه وسلم
مدینہ کے فضائل کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ مدینہ کی دو چٹانوں کے درمیان شکار کیا جائے کیونکہ اللہ جل وعلا نے اسے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر حرام کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3751
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ، يَقُولُ: ثُمَّ لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةَ مَا ذَعَرْتُهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَيْنَ لابَتَيْهَا حَرَامٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر میں مدینہ منورہ میں کسی ہرن کو چرتا ہوا دیکھوں، تو اسے پکڑنے کی کوشش نہیں کروں گا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: یہ دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ حرم ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3751]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3743»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (1373)، م (4/ 116).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں