صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
120. باب دخول مكة - ذكر الزجر عن طواف غير المسلم أو العريان بالبيت العتيق
مکہ میں داخل ہونے کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ غیر مسلم یا ننگا شخص بیت عتیق کا طواف کرے
حدیث نمبر: 3820
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْمُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أُنَادِي بِالْمُشْرِكِينَ، فَكَانَ عَلِيٌّ إِذَا صَحِلَ صَوْتُهُ، أَوِ اشْتَكَى حَلْقُهُ، أَوْ عَيِيَ مِمَّا يُنَادِي نَادَيْتُ مَكَانَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ لأَبِي: أَيَّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَقُولُونَ؟ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ: " لا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، فَمَا حَجَّ بَعْدَ ذَلِكَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلا مُؤْمِنٌ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدَّةٌ، فَمُدَّتُهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا قُضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ، فَإِنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ"، قَالَ: فَكَانَ الْمُشْرِكُونَ، يَقُولُونَ: لا بَلْ شَهْرٌ يَضْحَكُونَ بِذَلِكَ .
محرر بن ابوہریرہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مشرکین کے بارے میں اعلان کر رہا تھا، پھر جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آواز بیٹھ گئی اور ان کے حلق میں درد ہونے لگا اور وہ بلند آواز میں اعلان کرنے کے قابل نہ رہے تو ان کی جگہ میں پکارنے لگا۔ راوی (محرر) کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے دریافت کیا: آپ لوگ کیا اعلان کر رہے تھے؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ہم یہ پکار رہے تھے: ”اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا،“ چنانچہ اس سال کے بعد کسی مشرک نے حج نہیں کیا، ”اور کوئی برہنہ شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا، اور جنت میں صرف مومن جان ہی داخل ہوگی، اور جس شخص کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان (کسی مدت تک کا) کوئی معاہدہ ہے تو اس کے ختم ہونے کی مدت چار ماہ ہے، پھر جب چار ماہ گزر جائیں گے تو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول مشرکین سے لاتعلق ہوں گے۔“ ﴿أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُ﴾ [سورة التوبة: 3] تو مشرکین (اس بات کا مذاق اڑاتے ہوئے) یہ کہہ رہے تھے: جی نہیں، ایک مہینہ ہی کافی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3820]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 369، 1622، 3177، 4363، 4655، 4656، 4657، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1347، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2702، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3820، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3294، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1946، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9400، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8092» «رقم طبعة با وزير 3809»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (4/ 301).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي