صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
182. باب الإفاضة من منى لطواف الزيارة - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد لخبر ابن عمر الذي ذكرناه
منیٰ سے طوافِ زیارت کے لیے روانگی کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ابن عمر کی ہمارے بیان کردہ خبر کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 3884
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، وَرَقَدَ رَقْدَةً بِمِنًى، ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ، فَطَافَ بِهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّهُ كَانَ يُفِيضُ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَرْجِعَ، فَيُصَلِّي الظُّهْرَ بِمِنًى"، وَفِي خَبَرِ أَنَسٍ:" أَنَّهُ صَلَّى الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ، وَرَقَدَ رَقْدَةً بِمِنًى، ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ، فَطَافَ بِهِ"، فَجَعَلَ أَنَسٌ طَوَافَهُ لِلزِّيَارَةِ بِاللَّيْلِ، وَأَخْبَرَنَا ابْنُ عُمَرَ:" أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ الزِّيَارَةَ قَبْلَ الظُّهْرِ"، وَتِلْكَ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ، وَطَوَافٌ وَاحِدٌ لِلزِّيَارَةِ، وَالَّذِي يَجْمَعُ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ بِهِ،" أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، وَنَحَرَ، ثُمَّ تَطَيَّبَ لِلزِّيَارَةِ، ثُمَّ أَفَاضَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ طَوَافَ الزِّيَارَةِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى، فَصَلَّى الظُّهْرَ بِهَا، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ، وَرَقَدَ رَقْدَةً بِهَا، ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ ثَانِيًا، فَطَافَ بِهَا طَوَافًا آخَرَ بِاللَّيْلِ دُونَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌ أَوْ تَهَاتُرٌ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں پھر آپ منی میں تھوڑی دیر کے لیے سو گئے۔ پھر آپ سوار ہو کر بیت اللہ کی طرف آئے اور اس کا طواف کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ روایت میں یہ بات مذکور ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن روانہ ہوئے تھے پھر آپ واپس تشریف لے آئے تھے اور آپ نے منی میں ظہر کی نماز ادا کی تھی جب کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول روایات میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز ادا کی تھیں پھر آپ منی میں تھوڑی دیر کے لیے سو گئے تھے پھر آپ سوار ہو کر بیت اللہ گئے پھر آپ نے اس کا طواف کیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت رات کے وقت کیا تھا۔ جب کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت ظہر سے پہلے کیا تھا تو یہ ایک ہی حج کی بات ہے اور ایک ہی مرتبہ طواف زیارت کیا تھا تو جن حضرات نے ان دونوں روایات کو جمع کیا ہے انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبی کی رمی کی، قربانی کی پھر آپ نے طواف زیارت کیا اور خوشبو لگائی پھر آپ روانہ ہوئے آپ نے بیت اللہ کا طواف زیارت کیا پھر آپ منی تشریف لے آئے وہاں آپ نے ظہر کی نماز ادا کی۔ عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں پھر وہاں کچھ دیر کے لیے سو گئے۔ پھر آپ سوار ہو کر دوبارہ بیت اللہ کی طرف گئے اور وہاں آپ نے رات کے وقت دوسری مرتبہ طواف کیا تو اس طرح ان دونوں روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3884]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3873»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ، «التعليق على صحيح ابن خزيمة» (2980).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح