سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
137. باب الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ
باب: کپڑے میں منی لگ جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 371
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَاحْتَلَمَ، فَأَبْصَرَتْهُ جَارِيَةٌ لِعَائِشَةَ وَهُوَ يَغْسِلُ أَثَرَ الْجَنَابَةِ مِنْ ثَوْبِهِ أَوْ يَغْسِلُ ثَوْبَهُ، فَأَخْبَرَتْ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْأَعْمَشُ، كَمَا رَوَاهُ الْحَكَمُ.
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، ہمام کو احتلام ہو گیا، تو عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک لونڈی نے انہیں دیکھ لیا کہ وہ اپنے کپڑے سے جنابت کے اثر کو یا اپنے کپڑے کو دھو رہے ہیں، اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا تو انہوں نے کہا: میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچتے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 371]
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں (بطور مہمان) آئے ہوئے تھے کہ انہیں احتلام ہو گیا۔ وہ کپڑے سے احتلام کا نشان دھو رہے تھے یا کپڑا دھو رہے تھے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی نے انہیں دیکھ لیا۔ اس نے جا کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا تو انہوں نے کہا: ”مجھے خوب یاد ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے اسے کھرچ ڈالا کرتی تھی۔“ اس روایت کو اعمش نے بھی روایت کیا جیسے کہ حکم نے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 371]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطھارة 32 (288)، سنن الترمذی/الطھارة 85 (116)، سنن النسائی/الطھارة 188 (298)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 82 (537)، (تحفة الأشراف: 17676)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/67، 125، 135، 213، 239، 263، 280) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (288)
حدیث نمبر: 372
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلِّي فِيهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَافَقَهُ مُغِيرَةُ، وَأَبُو مَعْشَرٍ، وَوَاصِلٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچ ڈالتی تھی، پھر آپ اسی میں نماز پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 372]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو کھرچ ڈالا کرتی تھی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مغیرہ، ابومعشر اور واصل نے حماد بن ابی سلیمان کی موافقت کی ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 372]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15937)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/125، 132، 213) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (ح 288 من حديث إبراھيم النخعي به)
حدیث نمبر: 373
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمٌ يَعْنِي ابْنَ أَخْضَرَ، الْمَعْنَى وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ:" إِنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: ثُمَّ أَرَى فِيهِ بُقْعَةً أَوْ بُقَعًا".
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی دھوتی تھیں، کہتی ہیں کہ پھر میں اس میں ایک یا کئی دھبے اور نشان دیکھتی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 373]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو دھویا کرتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں: ”پھر میں دیکھتی کہ کپڑے پر (دھونے کے) نشان نمایاں ہوتے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 373]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 64 (229)، 65 (232)، صحیح مسلم/الطھارة 32 (289)، سنن الترمذی/الطھارة 86 (117)، سنن النسائی/الطھارة 187 (296)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 81 (536)، (تحفة الأشراف: 16135)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/142، 235) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (229) صحيح مسلم (289)