صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
264. باب ما يباح للمحرم وما لا يباح - ذكر العلة التي من أجلها رد صلى الله عليه وسلم لحم الصيد على الصعب بن جثامة
محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صعب بن جثامہ پر صید کا گوشت واپس کیا
حدیث نمبر: 3971
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " صَيْدُ الْبِرِّ حَلالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ، أَوْ يُصَادْ لَكُمْ" .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”خشکی کا شکار (احرام والے شخص کیلئے) حلال ہے پھر تم نے اسے شکار نہ کیا ہو یا اسے تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 3971]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3960»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «ضعيف أبي داود» (320).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف