صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
295. باب الهدي - ذكر جواز اشتراك النفر في البقرة الواحدة في الحج
ہدی (قربانی) کا بیان - اس بات کی اجازت کہ لوگ حج میں ایک گائے میں شریک ہوں
حدیث نمبر: 4005
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ : إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُخْبِرُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا حَتَّى قَدِمْنَا سَرِفَ، فَحِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ:" مَا لَكِ؟"، فَقُلْتُ: لَيْتَنِي لَمْ أَحُجَّ الْعَامَ، قَالَ:" مَا لَكِ؟"، قُلْتُ: حِضْتُ، قَالَ:" هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاصْنَعِي كَمَا يَصْنَعُ الْحَاجُ غَيْرَ أَنْ لا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ"، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْعَلُوهَا عَمْرَةً"، فَفَعَلُوا، فَمَنْ لَمْ يَسُقْ هَدْيًا حَلَّ، وَسَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مِنْ أَهْلِ الْيَسَارِ، فَلَمْ يَحِلُّوا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ، ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ، وَطَهُرْتُ، فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ، وَسَعَيْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، فَلَمَّا نَفَرْنَا أَرْسَلَنِي مَعَ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ مِنَ الْمُحَصَّبِ، فَقَالَ:" أَرْدِفْ أُخْتَكَ، فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ"، فَأَرْدَفَنِي، فَأَهْلَلْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَصَدَرَنَا .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج کرنے کیلئے روانہ ہوئے جب ہم ”سرف“ کے مقام پر پہنچے تو مجھے حیض آ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کی: افسوس ہے، میں اس سال حج نہیں کر سکوں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کی: مجھے حیض آ گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کا نصیب کر دی ہے تم وہی کچھ کرو جو حاجی کرتے ہیں البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:) جب ہم مکہ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اسے عمرہ میں تبدیل کر لو تو لوگوں نے ایسا ہی کیا جو شخص قربانی کا جانور ساتھ نہیں لایا تھا اس نے احرام کھول دیا۔ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ صاحب حیثیت لوگ اپنے ساتھ قربانی کا جانور لائے تھے انہوں نے احرام نہیں کھولا جب قربانی کا دن آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے ایک گائے قربان کی جب میں پاک ہو گئی تو میں نے بیت اللہ کا طواف بھی کیا اور (صفا و مروہ کی) سعی بھی کر لی پھر میں منیٰ میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جب ہم لوگ (مدینہ منورہ کی طرف) روانہ ہونے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ”محصب“ سے بھجوایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی بہن کو ساتھ بٹھاؤ اور انہیں ”تنعیم“ سے عمرہ کروا دو انہوں نے مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا میں نے ”تنعیم“ سے عمرہ کا احرام باندھا میں نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ہم لوگ (مدینہ منورہ کی طرف) روانہ ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 4005]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3994»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (3823 و 3824). تنبيه!! رقم (3823) = (3834) من «طبعة المؤسسة». رقم (3824) = (3835) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم