🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. - ذكر الإباحة للإمام أن يزوج بالمكاتبة إذا جعل صداقها أداء ما كوتبت عليه
- ذکر اس اجازت کا کہ امام مُکاتبہ کے ذریعے شادی کر سکتا ہے اگر مہر اس کی ادائیگی کو قرار دیا جائے جو اس پر مُکاتبہ کے تحت واجب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4054
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا سَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ، أَوْ لابْنِ عَمِّهِ، فَكَاتَبَتْ عَلَى نَفْسِهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً حُلْوَةً مُلاحَةً، لا يَكَادُ يَرَاهَا أَحَدٌ إِلا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلا أَنْ وَقَفَتْ عَلَى بَابِ الْحُجْرَةِ فَرَأَيْتُهَا كَرِهْتُهَا، وَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَرَى مِنْهَا مِثْلَ مَا رَأَيْتُ، فَقَالَتْ جُوَيْرِيَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ مِنَ الأَمْرِ مَا قَدْ عَرَفْتَ فَكَاتَبْتُ نَفْسِي، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟"، فَقَالَتْ: وَمَا هُوَ؟، قَالَ:" أَتَزَوَّجُكِ وَأَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ"، فَقَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" قَدْ فَعَلْتُ"، قَالَتْ: فَبَلَغَ الْمُسْلِمِينَ ذَلِكَ، قَالُوا: أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! فَأَرْسَلُوا مَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ، قَالَتْ: فَلَقَدْ عُتِقَ بِتَزْوِيجِهِ مِائَةُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، قَالَتْ: فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (جنگ کے بعد آزاد ہونے والے) بنو مصطلق کے افراد کو قیدی قرار دیا، تو جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی کے حصے میں آئیں، انہوں نے کتابت کا معاہدہ کرنے کی پیشکش کی۔ وہ ایک خوبصورت اور دل کش خاتون تھیں، جو بھی شخص انہیں دیکھتا تھا مسحور ہو جاتا تھا۔ وہ اپنی کتابت کی ادائیگی کے بارے میں مدد حاصل کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اللہ کی قسم! وہ حجرے کے دروازے پر رکی ہی تھیں، میں نے انہیں دیکھ لیا تو مجھے وہ اچھی نہیں لگیں، کیونکہ مجھے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں اسی طرح پسند کریں گے جس طرح مجھے وہ اچھی لگی تھیں۔ جویریہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو صورت حال ہے وہ آپ کے علم میں ہے، میں نے کتابت کا معاہدہ کیا ہے، اب میں اللہ کے رسول سے مدد حاصل کرنے کے لیے آئی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا (تم اسے اختیار نہیں کرنا چاہو گی) جو اس سے زیادہ بہتر ہے؟ اس خاتون نے دریافت کیا: وہ کیا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے ساتھ شادی کر لیتا ہوں اور تمہاری طرف سے کتابت کی ادائیگی کر دیتا ہوں۔ اس خاتون نے کہا: ٹھیک ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں ایسا کر لیتا ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس بات کی اطلاع مسلمانوں کو ملی تو انہوں نے کہا: یہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی عزیز بن گئے ہیں، تو ان لوگوں نے ان کے پاس جتنے بھی بنو مصطلق کے قیدی تھے ان سب کو آزاد کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شادی کی وجہ سے بنو مصطلق کے ایک سو گھرانے آزاد ہوئے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے علم کے مطابق کوئی اور عورت ایسی نہیں ہے جو اپنی قوم کے افراد کے لیے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ برکت والی ثابت ہوئی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4054]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 765، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4054، 4055، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6860، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3931، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18149، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27007» «رقم طبعة با وزير 4043»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «تخريج فقه السيرة». * [إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ] قال الشيخ: هو ابنُ رَاهويه، وقد أخرجه في «مسنده» (2/ 216 - 217 - مسند عائشة). وإسنادُه حَسنٌ؛ لتصريحِ ابنِ إِسحاقَ بالتحديث. وقد أخرجه جَماعَةٌ، ذَكرْتُهم في «تحريج السيرة»؛ فلا داعي للإعادة.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں