صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
145. - باب معاشرة الزوجين - ذكر ما يستحب للمرء أن لا يحرم عليه امرأته من غير سبب يوجب ذلك أو شيئا من أسبابها
میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ مرد کے لیے مستحب ہے کہ بلاوجہ اپنی بیوی پر حرمت نہ لگائے اور نہ ہی کسی بے سبب بات کو وجہ بنا کر منع کرے۔
حدیث نمبر: 4183
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: زَعَمَ عَطَاءٌ ،، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلا، قَالَتْ: فَتَوَاصَيْتُ أَنَا، وَحَفْصَةُ إِنْ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْمَغَافِرِ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " بَلْ شَرِبْتُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ عَسَلا، وَلَنْ أَعُودَ لَهُ"، فَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ سورة التحريم آية 1 الآيَةَ .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں شہد پیا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہما نے یہ طے کیا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائیں گے تو تم نے یہ کہنا ہے: ”مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مغافر کی بو محسوس ہوتی ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں خواتین میں سے کسی ایک کے پاس تشریف لائے تو اس خاتون نے یہ بات کہہ دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جی نہیں) بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش کے ہاں شہد پیا تھا اب میں یہ دوبارہ نہیں پیوں گا“، تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”اے نبی! تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 4183]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4912، 5267، 6691، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1474، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4183، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3421، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3714، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15184، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26492» «رقم طبعة با وزير 4171»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح