🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. باب فِي الرَّجُلِ يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ آخَرُ
باب: ایک شخص اذان دے اور دوسرا اقامت (تکبیر) کہے یہ جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 512
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ:"أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَذَانِ أَشْيَاءَ لَمْ يَصْنَعْ مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: فَأُرِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْأَذَانَ فِي الْمَنَامِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: أَلْقِهِ عَلَى بِلَالٍ، فَأَلْقَاهُ عَلَيْهِ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَا رَأَيْتُهُ وَأَنَا كُنْتُ أُرِيدُهُ، قَالَ: فَأَقِمْ أَنْتَ".
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے سلسلہ میں کئی کام کرنے کا (جیسے ناقوس بجانے یا سنکھ میں پھونک مارنے کا) ارادہ کیا لیکن ان میں سے کوئی کام کیا نہیں۔ محمد بن عبداللہ کہتے ہیں: پھر عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خواب میں اذان دکھائی گئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بلال کو سکھا دو، چنانچہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اسے بلال رضی اللہ عنہ کو سکھا دیا، اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، اس پر عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے میں نے دیکھا تھا اور میں ہی اذان دینا چاہتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم تکبیر کہہ لو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 512]
جناب محمد بن عبداللہ اپنے چچا سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (شروع میں) اذان کے متعلق کچھ چیزوں کا ارادہ فرمایا مگر ان پر عمل نہ کیا۔ چنانچہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خواب میں اذان دکھلائی گئی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کلمات بلال کو بتاؤ۔ چنانچہ انہوں نے بتائے اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی۔ عبداللہ نے کہا: میں نے یہ خواب دیکھا اور میں اس کا خواہشمند تھا، فرمایا: تم اقامت کہہ لو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5310)، مسند احمد (4/42) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ا س کے راوی محمد بن عمرو انصاری لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن عمرو ھو أبو سھل كما في مسند الإمام أحمد (42/4) وھو ضعيف
وللحديث شاھد ضعيف عند البيهقي (399/1)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 513
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كَانَ جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَأَقَامَ جَدِّي.
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں میرے دادا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تھے، اس میں ہے: تو میرے دادا نے اقامت کہی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 513]
جناب محمد بن عمرو انصارِ مدینہ کے مشائخ میں سے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن محمد کو سنا، وہ کہتے تھے کہ میرے دادا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے۔ (عبداللہ بن محمد نے) کہا: چنانچہ میرے دادا نے اقامت (تکبیر) کہی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 513]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 3653) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (محمد بن عمرو انصاری کے سبب سے یہ حدیث ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (512)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 514
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ يَعْنِي الْأَفْرِيقِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ، قَالَ:" لَمَّا كَانَ أَوَّلُ أَذَانِ الصُّبْحِ، أَمَرَنِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذَّنْتُ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أُقِيمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَشْرِقِ إِلَى الْفَجْرِ، فَيَقُولُ: لَا حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، نَزَلَ فَبَرَزَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيَّ وَقَدْ تَلَاحَقَ أَصْحَابُهُ يَعْنِي فَتَوَضَّأَ، فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ هُوَ أَذَّنَ، وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ، قَالَ: فَأَقَمْتُ".
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب صبح کی پہلی اذان کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (اذان دینے کا) حکم دیا تو میں نے اذان کہی، پھر میں کہنے لگا: اللہ کے رسول! اقامت کہوں؟ تو آپ مشرق کی طرف فجر کی روشنی دیکھنے لگے اور فرما رہے تھے: ابھی نہیں (جب تک طلوع فجر نہ ہو جائے)، یہاں تک کہ جب فجر طلوع ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور وضو کیا، پھر میری طرف واپس پلٹے اور صحابہ کرام اکھٹا ہو گئے، تو بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہنی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: صدائی نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی تکبیر کہے۔ زیاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے تکبیر کہی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 514]
سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب صبح کی پہلی اذان کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے اذان کہی۔ پھر میں کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اقامت کہوں؟ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرق کی جانب فجر کو دیکھتے اور فرماتے: نہیں۔ حتیٰ کہ جب فجر (اچھی طرح) طلوع ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف آئے اور اس اثنا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی آپ کو آ ملے (برز سے مراد ہے)، آپ نے وضو کیا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اس صدائی نے اذان کہی ہے اور جو اذان کہے وہی اقامت کہے۔ چنانچہ میں نے اقامت کہی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 32 (199)، سنن ابن ماجہ/الأذان 3 (717)، (تحفة الأشراف: 3653)، مسند احمد (4/169) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (199) ابن ماجه (717)
الإ فريقي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں