صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
7. ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد للخبرين اللذين ذكرناهما-
- ذکر اس خبر کا جو غیر ماہر عالم کو یہ وہم دلا سکتا ہے کہ یہ ہمارے ذکر کردہ دو خبروں سے متضاد ہے
حدیث نمبر: 4381
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ: لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ" سَأَلَ عُمَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذَرٍ كَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اعْتِكَافِ يَوْمٍ، فَأَمَرَهُ بِهِ". قَالَ: فَانْطَلَقَ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَبَعَثَ مَعِي بِجَارِيَةٍ أَصَابَهَا مِنْ سَبْيِ حُنَيْنٍ، قَالَ: فَجَعَلْتُهَا فِي بُيُوتِ الأَعْرَابِ حَتَّى نَزَلْتُ، فَإِِذَا أَنَا بِسَبْيِ حُنَيْنٍ، فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ يَقُولُونَ: قَدْ أَعْتَقَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ اللَّهِ: اذْهَبْ فَأَرْسِلْهَا. قَالَ: فَذَهَبْتُ فَأَرْسَلْتُهَا . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَلْفَاظُ أَخْبَارِ ابْنِ عُمَرَ مُصَرِّحَةٌ أَنَّ عُمَرَ نَذَرَ اعْتِكَافَ لَيْلَةً، إِِلا هَذَا الْخَبَرَ، فَإِِنَّ لَفْظَهُ أَنَّ عُمَرَ نَذَرَ اعْتِكَافَ يَوْمٍ، فَإِِنْ صَحَّتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ يَوْمًا أَرَادَ بِهِ بِلَيْلَتِهِ، وَلَيْلَةً أَرَادَ بِهَا بِيَوْمِهَا، حَتَّى لا يَكُونَ بَيْنَ الْخَبَرَيْنِ تَضَادٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس تشریف لائے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے بارے میں دریافت کیا: جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں ایک دن کا اعتکاف کرنے کے بارے میں مانی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسے پورا کرنے کا حکم دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے روانہ ہو گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہمراہ ایک کنیز بھیجی تھی جو حنین کے قیدیوں میں سے تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اسے دیہاتیوں کے گھروں میں ٹھہرا دیا یہاں تک کہ جب میں نے پڑاؤ کیا تو میرے سامنے حنین کے کچھ قیدی آئے جو دوڑتے ہوئے باہر نکلے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: اللہ کے رسول نے ہمیں آزاد کر دیا ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم جاؤ اور اس کنیز کو آزاد کر دو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو میں گیا اور میں نے اسے آزاد کر دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے الفاظ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس بات کی صراحت کی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک رات کا اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی اور یہ بات صرف اسی روایت میں منقول ہے، کیونکہ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن کا اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی، تو اگر یہ الفاظ مستند طور پر ثابت ہو جائیں، تو اس بات کا احتمال موجود ہو گا کہ یہاں دن سے مراد یہ ہے: اس دن کی رات کے ہمراہ (اعتکاف کیا جائے) اور جہاں رات کا لفظ استعمال ہوا اس سے مراد یہ ہو کہ اس کا دن ہمراہ ہو گا اس طرح ان دونوں روایتوں کے درمیان کوئی تضاد باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 4381]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4366»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «قيام رمضان» (34)، «صحيح أبي داود» (2836 - 2837).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما