صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
29. باب الزنى وحده - ذكر البيان بأن على البكر الزانية الجلد دون الرجم-
زنا اور اس کی حد کا بیان - کنواری زانیہ پر رجم کے بجائے کوڑے مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4427
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خُذُوا عَنِّي، فَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلا الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ، وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ، الْبِكْرُ تُجْلَدُ وَتُنْفَى، وَالثَّيِّبُ تُجْلَدُ وَتُرْجَمُ" .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ،، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھ سے احکام حاصل کر لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حکم بیان کر دیا ہے۔ کنوارا کنواری کے ساتھ (زنا کا مرتکب ہو) اور شادی شدہ، شادی شدہ کے ساتھ (زنا کا مرتکب ہو) تو کنوارے کو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا اور شادی شدہ کو کوڑے لگائے جائیں گے اور سنگسار کیا جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: 4427]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4410»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
عاصم بن أبي النجود صدوق له أوهام وحديثه في الصحيحين مقرون وباقي السند ثقات على شرط الصحيح