صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
21. باب في الخلافة والإمارة - ذكر الإخبار عما يستحب للأئمة تألف من رجي منهم الدين والإسلام-
خلافت و امارت کا بیان - اس بات کی خبر کہ حکمرانوں کے لیے ان لوگوں کا دل نرم کرنے کا استحباب ہے جن سے دین و اسلام کی امید ہو۔
حدیث نمبر: 4501
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَأَلَّفَهُمْ". ثُمَّ قَالَ لَهُمْ:" أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟" قَالُوا: ابْنُ أُخْتٍ لَنَا. قَالَ: " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قریش زمانہ جاہلیت سے قریب ہیں اس لیے میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں انہیں مانوس کروں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تمہارے درمیان تمہارے علاوہ کوئی اور ہے لوگوں نے بتایا: ہمارا ایک بھانجا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کا بھانجا ان کا حصہ ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 4501]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 4484»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (776)، «الروض النضير» (961): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما