صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
3. ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم فشأنك بها أراد به فاستنفقها-
لقطہ (گم شدہ چیز) کا بیان - بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان «فشأنك بها» سے مراد ہے کہ «اسے اپنے مصرف میں لے لو» ۔
حدیث نمبر: 4890
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ:" أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، قَالَ:" اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً"، قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَأْتِ لَهَا طَالِبٌ فَاسْتَنْفِقْهَا، قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ"، قَالَ: فَضَالَّةُ الإِبِلِ؟ قَالَ:" مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَأْتِيَهَا رَبُّهَا" ، أَبُو الرَّبِيعِ، هَذَا اسْمُهُ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَخِي رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ مِصْرِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بَصْرِيٌّ، قَالَهُ الشَّيْخُ.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ ملنے والی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس تھیلی کو اور اس کے منہ پر بندھی ہوئی چیز کی شناخت کو یاد رکھو، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کا کوئی طلبگار نہیں آتا تو پھر تم اسے خرچ کر لو۔“ اس نے دریافت کیا: گم شدہ بکری (کا کیا حکم ہے)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ یا تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا بھیڑیوں کو ملے گی۔“ اس نے عرض کی: گمشدہ اونٹ (کا کیا حکم ہے)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے، اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں، وہ خود ہی پانی تک پہنچ جائے گا اور درخت کے پتے کھا لے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے گا۔“ ابوربیع نامی راوی کا نام سلیمان بن داؤد بن حماد بن سعد ہے جو رشدین بن سعد مصری کے بھتیجے ہیں اور ابوربیع زہرانی کا نام سلیمان بن داؤد بصری ہے، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ اللُّقَطَةِ/حدیث: 4890]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 91، 2372، 2427، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1722، وابن الجارود فى "المنتقى"، 723، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4889، 4890، 4893، 4895، 4898، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1704، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1372، 1373، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2504، 2507، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12175، الدارقطني فى (سننه) برقم: 4566، 4569، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17311» «رقم طبعة با وزير 4870»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1495): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح