🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

115. باب مَنْ قَالَ الْحِمَارُ لاَ يَقْطَعُ الصَّلاَةَ
باب: نمازی کے آگے سے گدھا کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 715
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جِئْتُ عَلَى حِمَارٍ. ح وحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ،فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ أَحَدٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا لَفْظُ الْقَعْنَبِيِّ وَهُوَ أَتَمُّ، قَالَ مَالِكٌ: وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ وَاسِعًا إِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا، ان دنوں میں بالغ ہونے کے قریب ہو چکا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے، میں صف کے بعض حصے کے آگے سے گزرا، پھر اترا تو گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، اور صف میں شریک ہو گیا، تو کسی نے مجھ پر نکیر نہیں کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ قعنبی کے الفاظ ہیں اور یہ زیادہ کامل ہیں۔ مالک کہتے ہیں: جب نماز کھڑی ہو جائے تو میں اس میں گنجائش سمجھتا ہوں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 715]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں ایک گدھے پر سوار ہو کر آیا۔ (دوسری سند سے) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا اور میں ان دنوں قریب البلوغ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منٰی میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، چنانچہ میں صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرا، پھر میں اترا اور گدھی کو چھوڑ دیا، وہ چرنے لگی اور میں صف میں شامل ہو گیا اور کسی نے مجھ پر اعتراض نہ کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: یہ الفاظ (استاد) قعنبی کے ہیں اور (استاد عثمان بن ابی شیبہ کے الفاظ سے) زیادہ کامل ہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اس مسئلے میں توسع سمجھتا ہوں جبکہ نماز کھڑی ہو چکی ہو۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 715]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العلم 18 (76)، والصلاة 90 (493)، والأذان 161 (861)، وجزاء الصید 25 (1857)، والمغازي 77 (4412)، صحیح مسلم/الصلاة 47 (504)، سنن الترمذی/الصلاة 140 (337)، سنن النسائی/القبلة 7 (753)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 38 (947)، (تحفة الأشراف: 5834)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 11(38)، مسند احمد (1/219، 264، 337، 365)، سنن الدارمی/الصلاة 129(1455) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (493) صحيح مسلم (504)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 716
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ:" جِئْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حِمَارٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَنَزَلَ وَنَزَلْتُ وَتَرَكْنَا الْحِمَارَ أَمَامَ الصَّفِّ فَمَا بَالَاهُ، وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَدَخَلَتَا بَيْنَ الصَّفِّ فَمَا بَالَى ذَلِكَ".
ابوصہباء کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ان چیزوں کا تذکرہ کیا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں، تو انہوں نے کہا: میں اور بنی عبدالمطلب کا ایک لڑکا دونوں ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، ہم دونوں اترے اور گدھے کو صف کے آگے چھوڑ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ پرواہ نہ کی، اور بنی عبدالمطلب کی دو لڑکیاں آئیں، وہ آ کر صف کے درمیان داخل ہو گئیں تو آپ نے اس کی بھی کچھ پرواہ نہ کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 716]
جناب ابوالصہباء بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مجلس میں ہمارا مذاکرہ ہوا کہ کس چیز سے نماز ٹوٹتی ہے، تو آنجناب نے بیان کیا: میں اور بنی عبدالمطلب کا ایک لڑکا گدھے پر سوار ہو کر آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے، چنانچہ وہ اترا اور میں بھی اور ہم نے گدھے کو صف کے آگے چھوڑ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ اور بنی عبدالمطلب کی دو بچیاں آئیں اور صف میں داخل ہو گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بھی کوئی پروا نہ کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 716]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/القبلة 7 (755)، (تحفة الأشراف: 5687)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/235) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (755 وسنده حسن) والحاكم بن عتيبة صرح بالسماع عند ابن خزيمة (835)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 717
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَدَاوُدُ بْنُ مِخْرَاقٍ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُور بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: فَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اقْتَتَلَتَا فَأَخَذَهُمَا، قَالَ عُثْمَانُ: فَفَرَّعَ بَيْنَهُمَا، وَقَالَ دَاوُدُ: فَنَزَعَ إِحْدَاهُمَا عَنِ الْأُخْرَى فَمَا بَالَى ذَلِكَ.
منصور سے یہی حدیث اس سند سے بھی مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: بنی عبدالمطلب کی دو لڑکیاں لڑتی ہوئی آئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو پکڑ لیا، عثمان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑ کر دونوں کو جدا کر دیا۔ اور داود بن مخراق کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کو دوسرے سے جدا کر دیا، اور اس کی کچھ پرواہ نہ کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 717]
منصور نے یہی حدیث اپنی سند سے روایت کی، انہوں نے کہا: بنی عبدالمطلب کی دو لڑکیاں لڑتی ہوئی آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو پکڑ لیا۔ عثمان نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو جدا کر دیا۔ اور ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: انہیں ایک دوسری سے چھڑا دیا اور اس کی کوئی پروا نہ کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 717]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5687) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
انظر الحديث السابق (716)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں