صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
119. باب التواضع والكبر والعجب - ذكر الإخبار عن وضع الله جل وعلا من تكبر على عباده ورفعه من تواضع لهم-
تواضع، تکبر اور خود پسندی کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا اسے ذلیل کرتا ہے جو اپنے بندوں پر تکبر کرتا ہے اور اسے بلند کرتا ہے جو ان کے لیے تواضع کرتا ہے
حدیث نمبر: 5678
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ دَرَجَةً يَرْفَعْهُ اللَّهُ دَرَجَةً، حَتَّى يَجْعَلَهُ فِي أَعْلَى عِلِّيِّينَ، وَمَنْ يَتَكَبَّرْ عَلَى اللَّهِ دَرَجَةً، يَضَعْهُ اللَّهُ دَرَجَةً، حَتَّى يَجْعَلَهُ فِي أَسْفَلِ السَّافِلِينَ، وَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَعْمَلُ فِي صَخْرَةٍ صَمَّاءَ لَيْسَ عَلَيْهِ بَابٌ وَلا كُوَّةٌ، لَخَرَجَ مَا غَيَّبَهُ لِلنَّاسِ كَائِنًا مَا كَانَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ دَرَجَةً": يُرِيدُ بِهِ مَنْ تَوَاضَعَ لِلْمَخْلُوقِينَ فِي اللَّهِ، فَأَضْمَرَ الْخَلْقَ فِيهِ، وَقَوْلُهُ:" وَمَنْ تَكَبَّرَ": أَرَادَ بِهِ عَلَى خَلْقِ اللَّهِ، فَأَضْمَرَ الْخَلْقَ فِيهِ، إِذِ الْمُتَكَبِّرُ عَلَى اللَّهِ كَافِرٌ بِهِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے ایک درجے کی تواضع اختیار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کرتا ہے یہاں تک کہ اسے اعلیٰ علیین میں شامل کر دیتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ایک درجے کا تکبر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ایک درجہ نیچے کر دیتا ہے یہاں تک کہ اسے اسفل سافلین میں شامل کر دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی ایسی سالم چٹان کے اندر کوئی عمل کرے جس کا کوئی دروازہ اور کوئی کھڑکی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس چیز کو بھی ظاہر کر دے گا، جسے آدمی نے لوگوں سے چھپایا ہوا تھا خواہ وہ کوئی بھی چیز ہو۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے ایک درجہ تواضع اختیار کرتا ہے۔“ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے مخلوق کے ساتھ تواضع اختیار کرتا ہے تو اس میں لفظ مخلوق محذوف ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جو شخص تکبر کرتا ہے“ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ تکبر کا معاملہ کرتا ہے یہاں پر بھی لفظ مخلوق محذوف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے خلاف تکبر کرنے والا شخص، تو کافر ہو جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5678]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے ایک درجہ تواضع اختیار کرتا ہے۔“ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے مخلوق کے ساتھ تواضع اختیار کرتا ہے تو اس میں لفظ مخلوق محذوف ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”جو شخص تکبر کرتا ہے“ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ تکبر کا معاملہ کرتا ہے یہاں پر بھی لفظ مخلوق محذوف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے خلاف تکبر کرنے والا شخص، تو کافر ہو جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الحَظْرِ وَالإِبَاحَةِ/حدیث: 5678]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 5649»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الصحيحة» تحت الحديث (2328).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف